افغان الزامات مسترد، پاکستان کا دفاع کا حق

0

پاکستان کے دفتر خارجہ نے پیر 26 اکتوبر کو افغان طالبان حکومت کے ان الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں افغان شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دفاع کا پورا حق حاصل ہے، اور اس کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں اور ان کے لاجسٹک اڈوں تک محدود رہی ہیں۔

دفتر خارجہ نے کیا کہا؟

دفتر خارجہ کے بیان (پریس ریلیز نمبر 308/2026) میں کہا گیا کہ غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے نہ تو افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اس ذمہ داری سے بری کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور آغاز کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ بیان کے مطابق افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں صرف 2026 کے دوران 3500 سے زائد پاکستانی متاثر ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہزاروں پاکستانی شہری اس لیے شہید ہوئے کیونکہ حملے افغان سرزمین سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سہولت کاری کے ساتھ کیے گئے۔ دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی ذمہ دار ریاست اس وقت خاموش نہیں رہ سکتی جب اس کے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہو۔

طالبان کا دعویٰ کیا تھا؟

اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این کو انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ 2022 سے اب تک پاکستان کے افغانستان میں حملوں میں 1119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے، اور کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔ پاکستان نے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ اس کی جوابی کارروائیاں دفاع کے حق کے تحت، آخری حربے کے طور پر کی گئیں، اور وہ ضرورت، تناسب، امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کے مطابق تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ کارروائیوں کا دائرہ اور پیمانہ اس تحمل کو ظاہر کرتا ہے جو حملوں کی شدت اور تسلسل کے باوجود برتا گیا۔

کن گروپوں کا نام لیا گیا؟

دفتر خارجہ نے اقوام متحدہ کے متعلقہ میکانزم، بشمول مانیٹرنگ ٹیم، کی رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، جسے فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، جسے فتنہ الہندوستان کہا جاتا ہے، اور ان کے حامی گروپوں کو کھلی پناہ دے رہی ہے۔ بیان کے مطابق یہ گروپ خطے اور دنیا کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

دفتر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دیگر وعدوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائے، تاکہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

پس منظر: کشیدگی کیوں بڑھی؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اکتوبر 2025 سے جاری لڑائی کے پس منظر میں بڑھی ہے۔ گزشتہ ماہ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا تھا کہ افغان سرزمین سے ڈرونز کے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر درست فضائی اور ڈرون حملے کیے تھے، جنہیں انہوں نے جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی کا جواب قرار دیا تھا۔

اس سے قبل پاکستان نے افغان طالبان سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وہ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی دہرایا تھا، جس پر کابل نے انکار کیا تھا۔

آگے کیا ہوگا؟

دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی اس نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کے سلامتی خدشات کو قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے دور کرے، تاکہ سرحدی کشیدگی میں کمی آ سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا افغانستان سے دہشت گردوں پر کارروائی کا مطالبہ اور ڈی آئی خان آپریشن: 6 دہشت گرد ہلاک، 2 جوان شہید۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (26 اکتوبر 2026)، جیو نیوز (26 اکتوبر 2026)، اردو پوائنٹ (26 اکتوبر 2026)، دفتر خارجہ پاکستان کا بیان (پریس ریلیز 308/2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *