افغان طالبان کی چوکیاں تباہ، پاک فوج کا جوابی وار
پاک فوج نے جمعے کو پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی کئی چوکیاں اور فوجی تنصیبات تباہ کر دیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی 27 اکتوبر کو انگور اڈہ میں افغان طالبان کی جانب سے کی گئی فائرنگ کا جواب تھی، جس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے اور افغان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کی ہے۔
انگور اڈہ میں کیا ہوا تھا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 27 اکتوبر کو افغان طالبان اہلکاروں نے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں پاکستانی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، جبکہ بازار اور گھروں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ زیریں جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بھی اس وقت بتایا تھا کہ افغان طالبان نے انگور اڈہ بازار اور قریبی رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی۔
بدھ کے روز بھی پاک فوج نے اسی واقعے کے جواب میں افغان طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کی تھیں۔ جمعے کی کارروائی اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جس میں جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ پاراچنار سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی افغان طالبان کی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔
جمعے کی کارروائی کی تفصیل
جیو نیوز اور ٹریبیون کی 30 اکتوبر کی رپورٹوں کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں سے افغان طالبان کی کئی چوکیوں، دفاعی بنکروں اور فوجی تنصیبات کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران افغان طالبان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے، جبکہ ان کے کئی اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ تاہم ہلاکتوں کی درست تعداد ذرائع نے ظاہر نہیں کی، اور یہ دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج نے اس جوابی کارروائی کی ویڈیو فوٹیج بھی جاری کی ہے۔ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان اہلکاروں نے اپنی پوزیشنیں چھوڑ دیں اور پسپائی اختیار کی۔
کابل کا مؤقف مختلف
دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے اس واقعے پر مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔ افغان وزارت دفاع نے 28 اکتوبر کو اپنے بیان میں الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فورسز نے انگور اڈہ بازار اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ایک کمیشن پر ڈرون حملے کیے۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان وزارت دفاع کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دیا تھا۔
ٹیلی گراف انڈیا کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے اس خبر میں تمام عسکری دعوے متعلقہ فریقوں سے منسوب کر کے پیش کیے جا رہے ہیں، نہ کہ آزادانہ تصدیق شدہ حقائق کے طور پر۔
سرحدی کشیدگی کا پس منظر
پاک افغان سرحد پر کشیدگی کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جبکہ کابل ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ انگور اڈہ کا علاقہ جنوبی وزیرستان میں سرحد کے قریب واقع ہے اور ماضی میں بھی یہاں فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
موجودہ کشیدگی کے دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے، اور سرحدی علاقوں میں شہری آبادی بھی ان واقعات سے متاثر ہو رہی ہے۔ 27 اکتوبر کے واقعے میں شہری ہلاکت کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے، جس کی تازہ مثال جمعے کی کارروائی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری پہلی خبر انگور اڈہ: پاکستان نے افغان دعوے مسترد کر دیے (https://niazitvnews.com/?p=2486) اور انگور اڈہ: پاک فوج نے افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دیں (https://niazitvnews.com/?p=2327) بھی پڑھیں۔
ماخذ: جیو نیوز، ٹریبیون، ریڈیو پاکستان، دنیا نیوز اور ٹیلی گراف انڈیا کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں۔