اقرار الحسن کی ضمانت مسترد — کراچی عدالت کا بڑا فیصلہ
کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت نے جمعرات (22 اکتوبر) کو ٹی وی اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ اقرار الحسن پر این سی سی آئی اے کے مقدمہ نمبر 101/2026 میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کا الزام ہے — جو ابھی تک عدالت میں ثابت نہیں ہوا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہی رہیں گے۔
مقدمے کا پس منظر — این سی سی آئی اے کی کارروائی
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اقرار الحسن کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اقرار الحسن نے اپنے آفیشل اکاؤنٹس سے ایسا مواد پوسٹ کیا جو ایجنسی کے نزدیک ریاست مخالف، جھوٹا اور ہتک آمیز ہے — تاہم یہ الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
اقرار الحسن کو لاہور کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔ 19 اکتوبر کو جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت نے این سی سی آئی اے کی جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا اور ایجنسی کو 14 دن کے اندر چالان جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔
ضمانت کی درخواست پر دلائل اور فیصلہ
ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے مؤکل کو ضمانت دی جائے، تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کر دی۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وکیل نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ موصول ہونے کے بعد دفاع سندھ ہائیکورٹ سے حکم کی معطلی کے لیے رجوع کرے گا۔
سوشل میڈیا اور سائبر کرائم قوانین پر بحث
یہ کیس پاکستان کے سائبر کرائم قوانین کے سیاسی اور سوشل میڈیا کے تناظر میں اطلاق پر بھی بحث چھڑ گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آزادی اظہار اور آن لائن سرگرمیوں پر سائبر کرائم قانون کے استعمال کے حوالے سے ایک اہم ٹیسٹ کیس بن گیا ہے۔ اقرار الحسن کی گرفتاری اور ریمانڈ کی کارروائیوں نے ان کے سوشل میڈیا سرگرمی پر ہونے والی قانونی کارروائی کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ عرصے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد ہائی پروفائل کیسز میں کارروائیاں کی ہیں — جن میں یتیم خانے کے وسیم عباس کیس میں مرکزی ملزم کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کا واقعہ بھی شامل ہے۔ عدالتی ماہرین کے مطابق اقرار الحسن کیس کا اگلا مرحلہ سندھ ہائیکورٹ میں ہوگا، جہاں دفاع کی طرف سے ضمانت کی درخواست پر نظرثانی کی اپیل متوقع ہے۔
ذرائع: بلوم پاکستان، اب تک نیوز، ڈان نیوز