امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی ثالثی تجویز کو اصولی منظوری دے دی — خفیہ ایٹمی معائنہ اور منجمد رقوم پر پیشرفت کا امکان
امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی ثالثی تجویز کو اصولی منظوری دے دی — خفیہ ایٹمی معائنہ اور منجمد رقوم پر پیشرفت کا امکان
امریکا اور ایران نے قطر اور پاکستان کی پیش کردہ ثالثی تجویز کو اصولی طور پر قبول کر لیا ہے — بین الاقوامی میڈیا کی 20 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق اس “درمیانی راستے” کی تجویز کا مقصد آٹھ ماہ سے جاری کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا اور دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ واشنگٹن نے منصوبے کی منظوری دے دی ہے جبکہ تہران کی رضامندی بھی پہلے سے حاصل ہو چکی تھی۔
تجویز میں کیا شامل ہے؟
رپورٹ کے مطابق تجویز میں ایران کی جوہری تنصیبات کا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے ایک خفیہ اور غیر اعلانیہ دورہ شامل ہے، جس کے بدلے میں امریکا ایران کو قطر میں منجمد 6 ارب ڈالر کی رقوم پر حاصل ہونے والے منافع کی ادائیگی کی اجازت دے گا۔ یہ فارمولا دونوں فریقوں سے محدود رعایتیں مانگتا ہے — مکمل مطالبات سے پیچھے ہٹے بغیر کشیدگی کم کرنے کا راستہ۔
تجویز تہران کس نے پہنچائی؟
رپورٹس کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منگل کو تہران میں ایرانی حکام کو یہ تجویز پہنچائی۔ دورے میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ فیلڈ مارشل منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم لیڈر کے نمائندے اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں۔
قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کر لی
دوسری جانب پاکستان کی قومی اسمبلی نے امریکا اور ایران کے درمیان “امن معاہدے کے فریم ورک” کا خیر مقدم کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی، جس میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا گیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان کی اجازت سے قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور ہوئی۔ قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت سفارتی عمل میں شامل تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
حتمی معاہدہ ابھی دور — بنیادی مطالبات برقرار
تاہم رپورٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدہ ابھی نہیں ہوا — امریکا اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ تہران بیرون ملک منجمد اپنے تمام اثاثوں کی فوری رہائی چاہتا ہے۔ ایرانی حکام نے فیلڈ مارشل منیر کو بتایا کہ اعتماد کی بحالی کے لیے امریکا کو پہلے قدم اٹھانے ہوں گے اور تہران کی سات نکاتی تجویز مذاکرات کی بحالی کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے۔ منگل کے اجلاسوں کے بعد کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
ذرائع: العربی الجدید / دی نیو عرب (20 اکتوبر 2026)، متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس۔