امریکا: 25 ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ پر فوڈ ایڈ مقدمہ
امریکا کی 25 ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران لاکھوں غریب امریکیوں کی فوڈ ایڈ (SNAP) جاری رکھی جائے۔ یہ مقدمہ منگل 28 اکتوبر کو میساچوسٹس کی وفاقی عدالت میں دائر ہوا، اور اس میں الزام لگایا گیا ہے کہ محکمہ زراعت (USDA) نے نومبر کے فوائد کے لیے دستیاب ہنگامی فنڈز استعمال کرنے سے غیر قانونی طور پر انکار کیا ہے۔
4 کروڑ 20 لاکھ افراد کی امداد خطرے میں
SNAP یعنی سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام امریکا کا سب سے بڑا انسداد بھوک پروگرام ہے، جس سے تقریباً 4 کروڑ 20 لاکھ افراد مستفید ہوتے ہیں — یعنی ہر آٹھ میں سے ایک امریکی۔ زیادہ تر مستفید کنندگان وفاقی غربت کی لکیر پر یا اس سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ اگر یکم نومبر سے فوائد رک گئے تو یہ پروگرام کی 60 سالہ تاریخ میں پہلا موقع ہوگا کہ حکومتی شٹ ڈاؤن کی وجہ سے ادائیگیاں رکیں۔
ریاستوں کا کہنا ہے کہ USDA کے پاس تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر کا ہنگامی فنڈ موجود ہے، جو کم از کم جزوی ادائیگیوں کے لیے کافی ہوتا۔ لیکن محکمہ نے اپنی ویب سائٹ پر لکھ دیا ہے کہ “کنواں خشک ہو چکا ہے” اور “یکم نومبر کو کوئی فوائد جاری نہیں ہوں گے۔” ریاستوں کے وکلا کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس رقم موجود ہے، وہ اسے استعمال کرنے کا انتخاب نہیں کر رہی۔
ریاستوں کا مؤقف اور انتظامیہ کا جواب
نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے ایک بیان میں کہا: “لاکھوں امریکی بھوکے رہنے والے ہیں کیونکہ وفاقی حکومت نے وہ فوڈ اسسٹنس روکنے کا انتخاب کیا ہے جو وہ قانونی طور پر فراہم کرنے کی پابند ہے۔” انہوں نے کہا کہ “SNAP بھوک سے لڑنے کا ہمارا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، اور USDA کے پاس اسے چلتا رکھنے کے لیے رقم موجود ہے۔”
شمالی کیرولائنا کے اٹارنی جنرل جیف جیکسن نے خبردار کیا کہ صرف ان کی ریاست کی 11 کاؤنٹیوں میں ہر چار میں سے ایک رہائشی SNAP پر انحصار کرتا ہے، اور غیر سرکاری تنظیمیں اس خلا کو پر نہیں کر سکیں گی۔ انہوں نے اس اقدام کو “بڑے بھوک بحران کی دانستہ شروعات” قرار دیا۔
دوسری طرف USDA نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی فنڈز قانونی طور پر باقاعدہ فوائد کے لیے دستیاب نہیں، بلکہ قدرتی آفات جیسے حالات کے لیے مخصوص ہیں — اس ضمن میں جمیکا میں سمندری طوفان میلیسا کا حوالہ بھی دیا گیا۔
محکمہ نے شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو ٹھہرایا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس مقدمے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
عدالت سے کیا مانگا گیا ہے؟
مقدمہ میساچوسٹس کی وفاقی عدالت میں دائر ہوا ہے اور جج اندرا تالوانی کو سونپا گیا ہے۔ ریاستوں نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ جمعے تک اس درخواست پر فیصلہ کرے جس کے تحت USDA کو ہنگامی فنڈز استعمال کرنے پر مجبور کیا جائے۔ ایک ہنگامی سماعت جمعرات کو مقرر کی گئی ہے، جس میں عارضی حکم امتناعی (temporary restraining order) پر غور ہوگا۔
مقدمے میں یہ دلیل بھی دی گئی ہے کہ USDA کا اپنا 30 ستمبر کا منصوبہ کہتا تھا کہ کثیر سالہ ہنگامی فنڈز “فنڈنگ میں کمی کی صورت میں شرکاء کے فوائد کے لیے” استعمال ہو سکتے ہیں، لیکن گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک میمو میں محکمہ نے اچانک اپنا موقف بدل لیا۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی من مانی ہے اور پروگرام کے قوانین کی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت “تمام اہل گھرانوں کو امداد فراہم کی جائے گی۔”
آگے کیا ہوگا؟
اگر عدالت ریاستوں کے حق میں حکم دیتی ہے تو نومبر کی ادائیگیاں — مکمل یا جزوی — جاری رہ سکتی ہیں۔ اگر نہیں، تو یکم نومبر سے 4 کروڑ 20 لاکھ افراد بغیر فوڈ ایڈ کے رہ جائیں گے، جس سے نہ صرف غریب خاندان بلکہ وہ دکانیں بھی متاثر ہوں گی جو SNAP قبول کرتی ہیں اور وہ فوڈ بینک بھی جو پہلے ہی دباؤ میں ہیں۔ یہ مقدمہ اس بنیادی آئینی سوال کو بھی چھو رہا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے دوران جب کانگریس نے رقم مختص نہ کی ہو تو کیا عدالت صدر کو خرچ کی ترجیحات پر مجبور کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کے وینزویلا سے متعلق تازہ بیان یہاں پڑھیں اور امریکا ایران جنگ کی لاگت پر رپورٹ یہاں دیکھیں
ذرائع: شنہوا، ایسوسی ایٹڈ پریس، این بی سی نیوز — 28 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق۔