امریکی مڈٹرم: ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان جیت لیا

0

امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ میڈیا پروجیکشنز کے مطابق سی این این اور سی این بی سی نے ڈیموکریٹس کی ایوان میں اکثریت کی پیش گوئی کی ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے باقی دو برسوں کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔ سینیٹ کا معرکہ تاہم ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوا، جہاں ڈیموکریٹس کنٹرول کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ایوان کی فتح کا مطلب کیا ہے

ایوان نمائندگان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کو روک سکیں گے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف وسیع تحقیقات شروع کر سکیں گے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ڈیموکریٹک کنٹرول والی کمیٹیاں ایران کے خلاف جنگ، بڑے پیمانے پر ملک بدریوں اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کر سکیں گی، جبکہ نئے قوانین کی منظوری میں بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر کے ارد گرد موڈ “سرکش” ہے اور وہ انتخابی نتیجے سے قطع نظر “بنیاد پرست بائیں بازو” کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ عہدیدار نے مختصراً کہا کہ “بکل اپ” یعنی حالات مزید سخت ہونے والے ہیں۔ ٹرمپ نے خود پیر کو جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ میں کہا تھا کہ “میں ہر چیز کو ویٹو کر دوں گا”، اگرچہ بعد میں انہوں نے ڈیموکریٹس سے مذاکرات کے امکان کو بھی تسلیم کیا۔

سینیٹ کی جنگ ابھی جاری ہے

انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو سینیٹ میں 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت حاصل تھی، اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار تھا۔ اب تک دو ریپبلکن نشستیں پلٹ چکی ہیں، اس لیے سینیٹ کی جنگ ابھی کھلی ہوئی ہے۔

رات کی سب سے بڑی حیرانی جنوبی کیرولائنا میں ہوئی، جہاں ڈیموکریٹک امیدوار اور ماہر اطفال اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ ڈارلین گراہم کو ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی اور وہ اپنے بھائی، طویل عرصے سے سینیٹر لنڈسے گراہم کی جگہ لینے کے لیے مقرر ہوئی تھیں، جن کا جولائی میں انتقال ہوا تھا۔ ڈیموکریٹس نے 1998 کے بعد سے اس سخت قدامت پسند جنوبی ریاست میں سینیٹ کا کوئی انتخاب نہیں جیتا تھا۔

اس سے قبل شمالی کیرولائنا میں سابق گورنر رائے کوپر نے ٹرمپ کے منتخب کردہ امیدوار مائیکل واٹلی کو شکست دے کر ایک اور ریپبلکن نشست چھین لی تھی۔ جارجیا میں جون اوسوف نے دوبارہ انتخاب جیت لیا، جبکہ نیو ہیمپشائر میں کرس پیپس نے سابق سینیٹر جان سنونو کو شکست دے کر اپنی پارٹی کی اہم نشست برقرار رکھی۔

“بلیو ویو” کی علامتیں

ایوان کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی عام طور پر قدامت پسند علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ انڈیانا میں ایک اہم بیل ویدر مقابلے میں ڈیموکریٹ جے ڈی فورڈ نے ریپبلکن کانگریس وومن وکٹوریہ سپارٹز کو شکست دی، جو ایک ایسا ضلع ہے جسے ٹرمپ نے 2024 میں 17 فیصد پوائنٹس سے جیتا تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے اسے “بلیو ویو” کی ابتدائی وارننگ قرار دیا تھا۔

شمالی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کی ایک نشست پلٹ دی، جبکہ فلوریڈا میں دوبارہ بنائی گئی انتخابی حدود ریپبلکنز کو متوقع فائدہ نہ دے سکیں۔ جارجیا میں سابق اٹلانٹا میئر کیشا لانس باٹمز نے گورنر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کی — وہ امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بنیں اور 24 سالہ ریپبلکن حکمرانی کا خاتمہ کیا۔ اس سے متعلق تفصیلات امریکی مڈٹرم میں تاریخی گورنر کامیابیوں اور ڈیموکریٹس کی سینیٹ کامیابیوں کی خبروں میں موجود ہیں۔

ریپبلکنز کی کامیابیاں اور ووٹروں کا موڈ

ریپبلکنز کو بھی کچھ کامیابیاں ملیں، اگرچہ وہ غیر معمولی طور پر سخت مقابلوں کے بعد آئیں۔ ٹرمپ کے حمایت یافتہ بائرن ڈونلڈز نے فلوریڈا کے گورنر کا انتخاب جیت کر ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ ریپبلکن ایشلے موڈی نے سینیٹ کی نشست برقرار رکھی۔

انتخابات میں ووٹروں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ روزمرہ کی زندگی کی قیمت تھی۔ لاس اینجلس کی 24 سالہ ووٹر ٹیلر کک نے اے ایف پی کو بتایا کہ “کرایہ، گروسری، یوٹیلیٹی بل اور پراپرٹی ٹیکس مسلسل بڑھ رہے ہیں، اور میں کانگریس میں ایسے لوگ چاہتی ہوں جو قیمتوں کے بارے میں واقعی کچھ کریں۔” ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز پر اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے ٹیرف، امیگریشن کریک ڈاؤن اور ایران کے خلاف فوجی مہم کی تعریف کی اور کہا کہ “ہمیں امریکا کو عظیم رکھنا ہے۔ ہم اب عظیم ہیں۔ دو سال پہلے ہم خوفناک تھے۔”

سینیٹ ہاتھ سے نکلنے کی صورت میں ٹرمپ کے عدالتی نامزدگیوں اور سینئر انتظامی تقرریوں کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا، اس لیے آنے والے دنوں میں باقی نشستوں کے نتائج فیصلہ کن ہوں گے۔

ماخذ: گلف نیوز، دی ہندو (4 نومبر 2026)؛ ایوان کی اکثریت سی این این اور سی این بی سی کی پروجیکشنز پر مبنی ہے، حتمی سرکاری نتائج کا اعلان باقی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *