امریکی مڈٹرم: ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں بڑی کامیابیاں
امریکی مڈٹرم انتخابات 2026 کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ کی اہم نشستیں برقرار رکھی ہیں اور شمالی کیرولائنا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، تاہم کانگریس کے دونوں ایوانوں کا حتمی کنٹرول ابھی طے نہیں ہو سکا۔ یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی مدت کے لیے اقتدار کے توازن کا فیصلہ کریں گے، کیونکہ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی نشستوں اور 36 گورنروں کے عہدوں پر ووٹنگ ہوئی ہے۔
جارجیا اور ورجینیا میں ڈیموکریٹس کی کامیابی
جارجیا میں ڈیموکریٹک سینیٹر جان اوسوف نے ریپبلکن امیدوار مائیک کولنز کو شکست دے کر دوسری مدت کے لیے کامیابی حاصل کی۔ اوسوف واحد ڈیموکریٹک سینیٹر تھے جو ایسی ریاست میں دوبارہ انتخاب لڑ رہے تھے جہاں ٹرمپ نے 2024 میں کامیابی حاصل کی تھی، اس لیے ان کی نشست برقرار رکھنا پارٹی کے لیے نہایت اہم تھا۔ ورجینیا میں سینیٹر مارک وارنر نے بھی ریپبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو ہرا کر اپنی نشست بچا لی۔ ان دونوں کامیابیوں کی تصدیق ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر ذرائع نے کی ہے۔
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹس کی اہم کامیابی
شمالی کیرولائنا میں ڈیموکریٹک امیدوار رائے کوپر نے ریپبلکن مائیکل واٹلی کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست جیت لی، جسے ڈیموکریٹس کی جانب سے کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں ایک کلیدی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی طرح نیو ہیمپشائر میں ڈیموکریٹک امیدوار کرس پیپس نے ریپبلکن جان سنونو کو ہرا کر اپنی پارٹی کی ایک اہم نشست کا دفاع کیا۔ ایلی نوائے میں جولیانا اسٹریٹن کی کامیابی کے بعد تاریخ میں پہلی بار تین سیاہ فام خواتین بیک وقت امریکی سینیٹ میں خدمات انجام دیں گی۔
گورنروں کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس آگے
گورنروں کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس نے کئی اہم ریاستیں جیتیں۔ پنسلوانیا میں جوش شاپیرو، میری لینڈ میں ویس مور، میساچوسٹس میں مورا ہیلی، نیویارک میں کیتھی ہوکل، ایلی نوائے میں جے بی پرٹزکر اور روڈ آئی لینڈ میں ہیلینا فولکس نے کامیابی حاصل کی، جبکہ کولوراڈو میں فل وائزر بھی گورنر منتخب ہوئے۔ ریپبلکن امیدواروں نے بھی کچھ ریاستیں جیتیں، جن میں فلوریڈا میں سینیٹر ایشلے موڈی کی دوبارہ کامیابی اور وائیومنگ میں ہیریٹ ہیگمین کی سینیٹ جیت شامل ہے۔
کانگریس کا کنٹرول ابھی غیر یقینی
ابتدائی نتائج کے باوجود کانگریس کا کنٹرول ابھی واضح نہیں ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے، جبکہ ایوان نمائندگان میں اکثریت کے لیے انہیں کم از کم 218 نشستیں چاہییں۔ ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق تقریباً 60 فیصد ووٹرز نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے عدم اطمینان کا اظہار کیا، اور مہنگائی اور معیشت ووٹرز کے اہم ترین مسائل رہے۔ گنتی جاری ہے اور مغربی ریاستوں کے نتائج آنے کے بعد ہی حتمی تصویر واضح ہوگی۔
اس سے قبل اسی موضوع پر ابتدائی نتائج کی خبر امریکی مڈٹرم ابتدائی نتائج میں شائع ہوئی تھی — جبکہ انتخابات سے پہلے کی صورتحال امریکی مڈٹرم انتخابات میں بیان کی گئی تھی۔
ذرائع: انڈیا ٹی وی لائیو اپڈیٹس، منی کنٹرول، این ڈی ٹی وی، 4 نومبر 2026۔