اولیشکی سے نکالے گئے شہری بیلاروس پہنچ گئے

0

روس کے زیر قبضہ یوکرینی قصبے اولیشکی سے نکالے گئے شہریوں کو لے کر تین طیارے بیلاروس کے گومیل ایئرپورٹ پر پہنچ گئے ہیں۔ بیلاروس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز نے ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو یہ خبر دی ہے۔ یہ شہری اب سرحدی گزرگاہ کے ذریعے یوکرین جائیں گے۔

انخلا کا راستہ

رپورٹ کے مطابق یوکرین جانے کے خواہشمند شہریوں کو پہلے بسوں کے ذریعے جزیرہ نما کریمیا سے ہوتے ہوئے روس کے قصبے اناپا لے جایا گیا، جہاں سے وہ ہوائی جہاز کے ذریعے بیلاروس پہنچے۔ بیلٹا کے مطابق وہ بیلاروس سے سرحدی راستے سے یوکرین میں داخل ہوں گے۔ یوکرین کے وزیراعظم کے مطابق انخلا کرنے والوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہے، کیونکہ امدادی کارروائی جاری ہے اور اعداد و شمار تبدیل ہو رہے ہیں۔
اولیشکی کے شہریوں کو جمعہ 30 اکتوبر کو بسوں کے ذریعے نکالا گیا تھا۔ روئٹرز کے مطابق یہ دونوں متحارب فریقوں کی مشترکہ امدادی کارروائی ہے، جو چار سال آٹھ ماہ کی جنگ میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ شہریوں کو بھوک اور تھکن کی حالت میں نکالا گیا تھا اور اس سے قبل وہ طویل عرصے سے محصور علاقے میں پھنسے ہوئے تھے۔

جنگ بندی اور سفارتی پس منظر

یہ انخلا اس مقامی جنگ بندی کے تحت ہو رہا ہے جس میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، جبکہ پوپ لیو کا بھی اس عمل میں کردار بتایا گیا ہے۔ روئٹرز کی وضاحتی رپورٹ کے مطابق ماسکو اور کیف دونوں اس کارروائی کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ امن کے لیے ان کی کوششوں میں سنجیدہ ہیں۔
تاہم دونوں فریق جنگ کے خاتمے کی شرائط پر اب بھی بہت دور ہیں۔ ماسکو چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس خطے پر روس کا مکمل کنٹرول تسلیم کرے اور نیٹو میں شامل نہ ہو، جبکہ کیف امریکی انٹیلی جنس کی فراہمی، اسٹار شیلڈ مواصلاتی نظام تک رسائی اور یورپ کے ذریعے خریدے گئے امریکی ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اولیشکی کی کارروائی کو جنگ کے خاتمے کا فوری اشارہ نہیں سمجھا جا رہا۔

امدادی اداروں کا موقف

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس نے جمعہ کو کہا تھا کہ اس سے مدد کے لیے درخواست نہیں کی گئی تھی، لیکن وہ اپنے مینڈیٹ کے اندر مدد کے لیے تیار ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ اقوام متحدہ کو مدد کی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی، تاہم حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اولیشکی کے انخلا کی پیش رفت کے لیے انخلا کے آغاز کی رپورٹ اور جنگ بندی کے نفاذ کی رپورٹ بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔

ذرائع: روئٹرز، بیلٹا، 31 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *