اولیشکی میں جنگ بندی نافذ، امداد کا راستہ کھلا

0

یوکرین کے روس کے زیر قبضہ شہر اولیشکی میں آج منگل 27 اکتوبر کی صبح 3 بجے سے مقامی جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ اس جنگ بندی کا مقصد شہر میں محصور شہریوں تک انسانی امداد پہنچانا اور ضرورت مندوں کے انخلا کا راستہ کھولنا ہے۔ یہ جنگ بندی امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی ثالثی میں طے پائی تھی۔

جنگ بندی کب اور کیسے طے ہوئی

امریکی خاتون اول کے دفتر کے مطابق میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے شہری مذاکرات کاروں سے بات چیت کی تھی، جس کے بعد گزشتہ جمعے کو اس مقامی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ یوکرین کے محتسب دمیترو لوبینٹس نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جنگ بندی منگل سے شروع ہوگی اور کئی دن جاری رہے گی۔ روس کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف نے بھی کہا کہ روسی افواج منگل کی صبح 4 بجے ماسکو وقت کے مطابق خیرسن محاذ پر فائر بندی کریں گی۔

اولیشکی میں کتنے لوگ محصور ہیں

اقوام متحدہ کے مطابق اولیشکی میں 2 ہزار تک لوگ پھنسے ہوئے ہیں جن کے پاس خوراک اور ادویات کم ہوتی جا رہی ہیں۔ شہر میں بارودی سرنگوں اور ڈرون حملوں کے خطرے کی وجہ سے لوگ نکل نہیں پا رہے۔ سابق رہائشیوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ شہر میں رہنے والے لوگ بھوک کا سامنا کر رہے ہیں، ان کے پاس دوائیں نہیں ہیں اور وہ آسانی سے شہر چھوڑ نہیں سکتے۔ جنگ بندی ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے، یا اس سے زیادہ بھی چل سکتی ہے۔

امدادی مشن میں کیا ہوگا

میلانیا ٹرمپ کے مطابق روس اور یوکرین کے شہری اہلکار گھر گھر جا کر رہائشیوں سے ملیں گے اور ان کی ضروریات کا جائزہ لیں گے۔ جو رہائشی انخلا چاہیں گے انہیں مربوط مدد اور ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی۔ ان کے بقول کچھ لوگ روس جانا چاہیں گے اور کچھ یوکرین۔ امدادی قافلے کے راستے سے پہلے بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام بھی اس مشن کا حصہ بتایا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے نیوز میکس کو مبصرین کے ہمراہ جانے کی خصوصی رسائی ملنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔

اولیشکی کیوں اہم ہے

اولیشکی جنوبی یوکرین کے خیرسن علاقے میں واقع ہے، جو دارالحکومت کیف سے تقریباً 550 کلومیٹر جنوب مشرق میں ہے۔ دریائے دنیپرو یہاں روسی اور یوکرینی افواج کو الگ کرتا ہے۔ اس شہر پر روس نے 2022 میں مکمل حملے کے پہلے دن قبضہ کر لیا تھا۔ جون 2023 میں کاخوفکا ڈیم کی تباہی کے بعد آنے والے سیلاب نے شہر کو مزید نقصان پہنچایا تھا۔ یوکرینی فوج نے شہر کی ڈرون فوٹیج جاری کی ہے جس میں خالی اور جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتیں دکھائی دیتی ہیں۔

آگے کیا ہوگا

یہ محدود جنگ بندی ایسے وقت میں آئی ہے جب یوکرین جنگ اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ، روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات نومبر میں دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے، جو کئی ماہ سے معطل تھے۔ تاہم ابھی تک نہ روس، نہ یوکرین اور نہ امریکہ نے یہ بتایا ہے کہ جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا اور انسانی امداد کے آپریشن کی تفصیلات کیا ہوں گی۔ اس سے قبل اولیشکی سے متعلق خبروں میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ روس نے جنگ بندی سے قبل یوکرین پر حملوں کا الزام لگایا تھا، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

مزید پڑھیں: اولیشکی جنگ بندی سے قبل روس کا یوکرین پر الزام اور میلانیا ٹرمپ کی اولیشکی جنگ بندی کی کوشش۔

ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، اے ایف پی، الجزیرہ — 27 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *