ایران جنگ: امریکا نے خلیجی ممالک کو مڈٹرم کے بعد حملے سے خبردار کر دیا

0

امریکا نے کئی خلیجی عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ پیغامات سفارتی اور عسکری ذرائع سے بھیجے گئے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف نئی بھاری کارروائیوں کی تیاری کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کا فیصلہ ابھی حتمی نہیں، حملے کا امکان زیر غور

رپورٹ میں ان کی سوچ سے واقف افراد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن وہ انتخابات کے بعد ایک بڑے حملے کی طرف مائل ہیں جس میں ایرانی انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ متبادل راستہ معاہدے کی کوشش ہے، اور خطے کے ثالثوں کی سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ تمام دعوے رپورٹ اور اس کے ذرائع سے منسوب ہیں، امریکی حکومت کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

فوجی تیاریاں: پیٹریاٹ سسٹم، جنگی جہاز اور گولہ بارود

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ٹیکساس سے اسرائیل کو ایک اضافی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام بھیج رہی ہے تاکہ اسرائیل کے میزائل دفاع کو مضبوط کیا جا سکے، اور مشرق وسطیٰ میں کمزور اڈوں سے فوجیوں کو ہٹایا جا چکا ہے۔ امریکی افواج گولہ بارود کی دوبارہ فراہمی کر رہی ہیں اور بمبار طیارے و لڑاکا جیٹ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ ایک اضافی طیارہ بردار بحری گروپ اور میرین مہماتی یونٹ بھی خطے میں پہلے سے موجود تقریباً 20 جنگی جہازوں کے بیڑے میں شامل ہو سکتے ہیں، حالانکہ کچھ جہاز واپس بھی جا سکتے ہیں۔

ایران جنگ کی اب تک کی قیمت کا تازہ تخمینہ ہم نے اپنی اس خبر میں دیا تھا: https://niazitvnews.com/?p=2412 — جس کے مطابق اکتوبر کے وسط تک جنگ پر 47.1 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 60 فیصد یعنی 29 ارب ڈالر صرف گولہ بارود پر خرچ ہوئے۔

آبنائے ہرمز اور خطے کی کشیدگی

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے منگل کو ایرانی دعوے کو مسترد کیا تھا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز چھوڑ دیا ہے، اور کہا تھا کہ اس کی افواج بدستور موجود ہیں۔ دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی آبنائے سے گزرتا ہے، اس لیے خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل ٹرمپ کی ایران کو وارننگ اور مڈٹرم کے بعد حملوں کے منصوبے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1516 — اس وقت بھی یہی کہا گیا تھا کہ حتمی منظوری باقی ہے، اور آج کی رپورٹ اسی سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل اور جسٹ سیکیورٹی ارلی ایڈیشن — 28 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *