ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا

0

ایران نے 29 اکتوبر 2026 کو آبنائے ہرمز کو خلاف ورزی کرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق آبنائے کے مشرق میں ایک تیل بردار جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا اور حرکت کے قابل نہ رہا، جس کے بعد تہران نے خبردار کیا کہ اس کی مقرر کردہ حدود کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکا کا دعویٰ ہے کہ اس نے آبنائے کے اہم راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں، جبکہ ایران اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔

ایرانی فوج کا دعویٰ: ٹینکر سرنگ سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا

ایرانی فوج کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق، جمعرات کی صبح آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک محدود اور غیر محفوظ علاقے میں سفر کرنے والا ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹکر کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور وہ آگے بڑھنے کے قابل نہ رہا۔ ایرانی حکام نے اس جہاز کا نام، اس کا جھنڈا، مالک یا عملے کی تعداد ظاہر نہیں کی، اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی اطلاع دی گئی ہے۔

ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ “آبنائے ہرمز ان خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے لیے بند ہے جو بغیر رابطے کے ممنوعہ اور غیر محفوظ علاقوں سے گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے غیر مربوط سفر جہازوں اور عملے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور رہیں گے۔

پاسداران انقلاب کا دعویٰ: تین ٹینکر جنوبی راستے پر دھماکوں کا شکار

ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے غیر مجاز جنوبی راستے سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں اور آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ آئی آر جی سی کے بیان کے مطابق ان جہازوں نے اپنے ریڈار اور نیوی گیشن نظام بند کر دیے تھے اور ایرانی بحریہ کی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔

ان دعووں کو آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے بھی واضح کیا ہے کہ سرنگوں سے ٹکرانے کے دعووں کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی، اور متاثرہ جہازوں کی شناخت، ان کے ٹھیک ٹھکانے اور واقعات کے درست وقت کے بارے میں ابہام برقرار ہے۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر کم از کم چار ٹینکر سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آئے ہیں، جن میں فوج کے بیان والا چوتھا ٹینکر بھی شامل ہے۔

ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف: آبنائے مکمل طور پر بند ہے

ایران کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے آبنائے ہرمز کے ساحل پر فوجی یونٹوں کے معائنے کے دوران کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ آبنائے کھلا ہے، یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ مکمل طور پر بند ہے اور ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق پاسداران انقلاب کی زمینی اور بحری افواج خلیج فارس، جزائر اور آبنائے ہرمز کے ساحلوں پر کنٹرول رکھتی ہیں اور علاقے کی نگرانی جاری ہے۔

عبداللہی نے خبردار کیا کہ ایران کی مقرر کردہ گزرگاہ سے ہٹ کر گزرنے کی کوشش کرنے والا ہر جہاز اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا اور اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک اور سینئر ایرانی کمانڈر میجر جنرل یزدی کے حوالے سے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بتایا کہ آبنائے اس وقت تک بند رہے گا جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں۔

امریکا کا موقف: اہم راستے صاف، دعووں کا ثبوت مانگا گیا

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا موقف رہا ہے کہ آبنائے کے بنیادی گزرگاہی راستوں میں موجود تمام بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔ آئی آر جی سی کے ترجمان حسین محبی نے اس دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے سرنگیں صاف کرنے کے دعوے کو آزادانہ طور پر قابل تصدیق شواہد سے ثابت کرے، نہ کہ صرف بیانات سے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو “اسٹیل کی دیوار” قرار دیا تھا۔ ایران ان دعووں کو پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کرتا ہے۔

پس منظر: فروری کی جنگ، جون کا معاہدہ اور تیل کی عالمی اہمیت

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکا اسرائیل جارحیت کے جواب میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیاں سخت کیں، یہ جنگ تقریباً 40 روز جاری رہنے کے بعد اپریل کے اوائل میں رکی تھی۔ 17 جون کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جس کی شق 5 کے تحت آبنائے کو دوبارہ کھولنے اور اس کے انتظام کی ذمہ داری ایران کے سپرد کی گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بحری ناکہ بندی عائد کی، جس کے جواب میں تہران نے آبنائے کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے؛ عام حالات میں دنیا کی سمندری تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ اور مائع قدرتی گیس کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے سے متعلق ہر خبر عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دیتی ہے۔ اس سے پہلے اسی ہفتے ایک اور ٹینکر پر نامعلوم میزائل حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2674 — جبکہ آبنائے میں ڈھو (کشتی) میں آگ لگنے اور ایرانی دعووں کے پس منظر کے لیے یہ رپورٹ دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2655

اہم وضاحت یہ ہے کہ آبنائے کی مکمل بندش، ٹینکروں کے نقصان اور جانی نقصان کے بارے میں ابھی تک کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، اور صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے۔ تجارتی جہاز رانی کی کمپنیاں اور انشورنس ادارے اس اعلان کے عملی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ذرائع: دی ہندو، ریپبلک ورلڈ/اے این آئی، پریس ٹی وی، انادولو ایجنسی کے حوالے سے حبرلر، لیٹسٹلی — 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *