ایران کا بڑا دعویٰ — خلیج فارس میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی، آبنائے ہرمز کے قریب مزید تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج فارس کے شمالی حصے میں تیل لے جانے والے چار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی، جبکہ آبنائے ہرمز کے مغرب میں مزید تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر رک گئے۔ ایران نے ان واقعات کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا اور خطے میں امریکی تنصیبات کے خلاف ردعمل کی وارننگ بھی دی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تمام دعوے ایران کی جانب سے کیے گئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
آئی آر جی سی کے بیان کی تفصیل
ایرانی سرکاری خبررساں ادارے IRNA کے مطابق جمعرات کی صبح جاری بیان میں آئی آر جی سی نیوی نے کہا کہ ان چاروں جہازوں نے پہلے “غیر قانونی راستہ” استعمال کیا تھا، جس پر متعلقہ بحری کمپنیوں کو پہلے ہی تنبیہ کی گئی تھی۔ بیان میں کہا گیا کہ ان جہازوں کی نگرانی اور تعاقب کے بعد خلیج فارس کے وسط میں انہیں تیل کی منتقلی کرتے ہوئے پایا گیا، جہاں چاروں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور ان میں آگ لگ گئی۔
بیان کے مطابق مزید تین جہاز بدھ کی رات آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرائے اور روک دیے گئے۔ آئی آر جی سی نے جہازوں کے نام، ملکیت یا نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکا کو وارننگ اور ٹرمپ کا موقف
آئی آر جی سی نیوی نے الزام لگایا کہ امریکا جہازوں کو “غیر قانونی، بارودی سرنگوں والے راستے” سے گزرنے کی ترغیب دے رہا ہے۔ بیان میں متنبہ کیا گیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو تصادم کا دائرہ خطے میں موجود امریکی اڈوں تک پھیل سکتا ہے — ایرانی حکام نے اسے “سنجیدہ وارننگ” قرار دیا۔
یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ امریکا اس وقت ایران سے کوئی مذاکرات نہیں کر رہا اور “جلد ہی کچھ ہوگا”۔ بین الاقوامی خبررساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس میں کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔
ماخذ: IRNA، ٹائمز آف اسرائیل، انڈین ایکسپریس اور ANI۔ تمام واقعات ایران کے دعوے کی صورت میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔