ایل پی جی قیمت: سردیوں میں 450 سے 500 روپے فی کلو
حکومت نے سردیوں سے پہلے ایل پی جی کی نئی پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت چار سرکاری ادارے ایل پی جی درآمد کریں گے اور مقامی پیداوار کی شفاف نیلامی ہوگی۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق سرکاری اداروں سے آنے والی درآمدی ایل پی جی کی مقامی قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو تک ہو سکتی ہے، جبکہ مستحق صارفین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے معیار پر 300 سے 350 روپے فی کلو کے حساب سے سبسڈی والی ایل پی جی دی جائے گی۔ یہ اعلان منگل کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا جس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔
نئی پالیسی میں کیا تبدیلی آئی ہے
نئی پالیسی کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ، سوئی سدرن گیس کی ایل پی جی کمپنی اور پارکو کی ایل پی جی کمپنی کو ایل پی جی درآمد کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ ادارے حکومت سے حکومت اور کاروبار سے کاروبار کے معاہدوں کے ذریعے سپلائی حاصل کریں گے۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ان اداروں کو سعودی عرب اور عمان سے سپلائی کی پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں۔ مقامی پیداوار کے لیے کوٹہ سسٹم ختم کر دیا جائے گا اور ریفائنریوں و پیداواری کمپنیوں کی ایل پی جی پانچ اور دس ٹن کے لاٹس میں شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت ہوگی جس کی نگرانی اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کریں گے۔ سرکاری ادارے اپنی ویب سائٹس پر ماہانہ اوسط درآمدی لاگت شائع کریں گے اور اوگرا مقامی و درآمدی ایل پی جی کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنا بند کر دے گا۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم اور درآمدی قیمت کے فرق سے ایک فنڈ بنے گا جس سے مستحق صارفین کی سبسڈی دی جائے گی۔
قیمت کیوں بڑھ رہی ہے
وزیر پیٹرولیم کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ ہے۔ سعودی آرامکو کا کنٹریکٹ پرائس مارچ 2026 میں 540 ڈالر فی ٹن تھا جو اب بڑھ کر 756 ڈالر فی ٹن ہو گیا ہے، جبکہ اسپاٹ مارکیٹ میں اس پر 300 سے 400 ڈالر فی ٹن تک پریمیم بھی ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے درآمدی ایل پی جی کی مکمل لاگت 450 سے 500 روپے فی کلو تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ملک میں ایل پی جی کی یومیہ مقامی پیداوار تقریباً 2,000 سے 2,500 ٹن ہے جبکہ سالانہ کھپت تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے جس کا نصف سے زیادہ حصہ درآمدات سے پورا ہوتا ہے۔ مغربی سرحدوں سے درآمد میں خلل کے بعد بازار میں بعض عناصر ایل پی جی 700 سے 800 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں، حالانکہ اوگرا نے نومبر کے لیے زیادہ سے زیادہ قیمت 295 روپے فی کلو مقرر کی تھی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت اس ناجائز منافع خوری کے خلاف مسابقتی کمیشن، اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کے ذریعے کارروائی کرائے گی۔
سردیوں میں گیس کی فراہمی کا وعدہ
حکومت نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ سردیوں میں گھریلو صارفین کو ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے اوقات میں پائپ لائن گیس فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر مہنگی ایل این جی بھی درآمد کی جائے گی۔ وزیر پیٹرولیم کے مطابق سردیوں میں گیس کی طلب میں یومیہ 400 سے 500 ملین مکعب فٹ کا اضافہ متوقع ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر اجلاس کی صدارت بھی کی ہے اور توانائی کے نظام کی ازسرنو تعمیر کی ہدایت دی ہے۔ نجی درآمد کنندگان کو بھی کم قیمت پر سپلائی لا کر مقابلہ کرنے کی آزادی ہوگی تاکہ مارکیٹ میں مقابلہ برقرار رہے۔
عام صارف کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
عام گھرانے کے لیے اعداد و شمار کا فرق واضح ہے۔ سرکاری قیمت پر 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 3,470 روپے کا بنتا ہے، لیکن اگر قیمت 450 سے 500 روپے فی کلو ہو تو یہی سلنڈر 5,310 سے 5,900 روپے کا پڑے گا۔ سبسڈی والی قیمت 300 سے 350 روپے فی کلو پر یہی سلنڈر 3,540 سے 4,130 روپے کا ہوگا، جو موجودہ سرکاری قیمت سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے نئی پالیسی کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ سرکاری درآمدات کب شروع ہوتی ہیں، نیلامی کب شفاف ہوتی ہے اور سبسڈی مستحق گھرانوں تک کب پہنچتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے انتظامات سردیوں سے پہلے مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے، لیکن اس کی عملی شروعات کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی آج کی نئی قیمتیں — https://niazitvnews.com/?p=3518
مزید پڑھیں: ایل پی جی کی نومبر کی نئی سرکاری قیمت اور سلنڈر کا نرخ — https://niazitvnews.com/?p=2995
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیشن اور بزنس ریکارڈر کی 4 نومبر 2026 کی رپورٹس۔