ایل پی جی قیمت میں بڑا دھماکہ — پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، سرکاری نرخ صرف 279 روپے
ایل پی جی قیمت میں بڑا دھماکہ — پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی، سرکاری نرخ صرف 279 روپے
پنجاب، خیبر پختونخوا اور ملک کے شمالی علاقوں میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے — جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اکتوبر 2026 کے سرکاری نرخ 279.34 روپے فی کلو سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ موجودہ مارکیٹ نرخوں پر گھریلو سلنڈر (11.8 کلوگرام) کی قیمت 5,900 سے 7,080 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اوگرا کا مقرر کردہ نرخ صرف 3,296.23 روپے ہے۔
سرکاری نرخ اور مارکیٹ کی قیمتوں میں دوگنا فرق
اوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کا سرکاری نرخ 279.34 روپے فی کلو مقرر کیا تھا، جو ستمبر کے 258.65 روپے کے مقابلے میں 20.69 روپے فی کلو کا اضافہ تھا۔ تاہم مارکیٹ میں صارفین کو یہ قیمت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ لاہور میں ایل پی جی 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے اور ایک رپورٹ کے مطابق گھریلو سلنڈر کی قیمت 7,200 روپے تک جا پہنچی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں قیمتیں 600 روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات — ایران سرحدی تجارت کی بندش اور سردیوں کی مانگ
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق سپلائی میں رکاوٹ کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کی بندش ہے، جس سے درآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ سرد موسم کے آغاز پر شمالی علاقوں میں ایل پی جی کی مانگ بڑھ گئی ہے، جہاں گھرانے کھانا پکانے اور حرارت کے لیے اسی پر انحصار کرتے ہیں۔ ملک کی ایل پی جی سپلائی کا تقریباً 67 فیصد درآمدات پر مشتمل ہے، اس لیے سپلائی کی رکاوٹ براہ راست قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
صارفین پر بڑا مالی بوجھ
سرکاری اور مارکیٹ نرخوں کے درمیان اس وسیع فرق سے سب سے زیادہ متاثر کم آمدنی والے گھرانے ہو رہے ہیں — خاص طور پر وہ علاقے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں۔ ریسٹورنٹ، بیکریاں اور چھوٹے کاروبار بھی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دباؤ کا شکار ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ڈسٹری بیوٹرز اور کاروباری حلقوں کا سخت ردعمل
عرفان کھوکھر نے اوگرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریگولیٹر سرکاری نرخوں پر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے اور کالا بازار میں فروخت روکنے کے لیے موثر اقدام نہیں کیے گئے۔ انہوں نے حکومت سے قیمتوں کی صورتحال کی فوری انکوائری اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے ٹرمینل کے استعمال کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان بزنس مین اینٹلیکچوئلز فورم کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے بھی ایل پی جی قیمتوں کے 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اوگرا سے ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانے اور موسم سرما کے لیے سپلائی پلان تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع: دی نیوز، پاکستان نیوز، پختون ڈیجیٹل