ایمان مزاری، ہادی چٹھہ کو ضمانت مل گئی
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سڑک بلاک کرنے اور پولیس سے تصادم کے کیس میں ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے ہر ایک کے لیے 5 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے مقرر کیے ہیں۔ یہ فیصلہ منگل 3 نومبر 2026 کو سنایا گیا۔
عدالت کا فیصلہ
اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے وکیل ریاضت علی آزاد پیش ہوئے، جبکہ پولیس نے کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ جج نے فریقین سے پوچھا کہ کیا وہ مزید کچھ کہنا چاہتے ہیں، اور پھر ضمانت کی درخواستیں منظور کر لیں۔
جج نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو جاری کردہ شوکاز نوٹس کے معاملے کو وہ خود دیکھیں گے۔ پولیس کی جانب سے کیس کا ریکارڈ پیش کرنے میں تاخیر ہوئی تھی، جس پر عدالت نے پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔
کیس کیا ہے؟
یہ مقدمہ اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں درج ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق یہ کیس نیشنل پریس کلب کے احاطے میں ہونے والے ایک احتجاج سے متعلق ہے، جس میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کے احتجاج میں کم از کم 150 مظاہرین شریک تھے۔ ایف آئی آر میں الزام ہے کہ مظاہرین نے سڑک بلاک کی اور پولیس کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔
مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 186، 188، 341، 353 اور 506 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے ریلی نکالی اور سڑک بند کر دی، جس پر پولیس نے انہیں بتایا کہ یہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہے۔ ملزمان پر 7 اکتوبر کو اس کیس میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، جبکہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج ہوا تھا۔
اہم وضاحت: یہ ضمانت کس کیس میں ہے؟
یہ ضمانت صرف سڑک بلاک اور پولیس سے تصادم کے کیس میں دی گئی ہے۔ یہ اس دوسرے کیس سے الگ ہے جس میں گزشتہ ہفتے ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے کیس میں 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی شامل تھا۔
اس لیے 3 نومبر کی ضمانت کا مطلب یہ نہیں کہ جوڑے کی 10 سالہ سزا ختم ہو گئی ہے۔ دونوں کیسز الگ الگ ہیں اور ان کی قانونی کارروائی بھی الگ چل رہی ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں جوڑے کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک اور کیس میں بھی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کی سزائیں معطل کر کے ضمانت دی تھی، تاہم 17 ستمبر کو انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پس منظر
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اکتوبر 2024 میں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ اس وقت ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ٹریفک پولیس سے تصادم کیا، جس نے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے لیے علاقے میں رکاوٹیں لگا رکھی تھیں۔ جنوری 2023 سے اب تک جوڑے کے خلاف مختلف مقدمات میں کارروائی جاری ہے، اور ان کی قانونی لڑائی کئی عدالتوں میں چل رہی ہے۔
مزید تفصیلات کے لیے ہماری یہ خبریں بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا اور ایمان مزاری اور ہادی علی کو 10 سال قید پر عالمی مذمت۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (3 نومبر 2026)، ڈان (3 نومبر 2026)، جیو نیوز، ہم نیوز اور دنیا نیوز کی رپورٹس۔