ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید اور 2، 2 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران سنایا۔
عدالت کے حکم کے مطابق دونوں ملزمان کو تین الگ الگ دفعات کے تحت سزائیں دی گئیں، تاہم تمام سزائیں بیک وقت چلنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے ان کی مؤثر قید 10 سال ہوگی۔
عدالت نے کیا سزا سنائی؟
رپورٹس کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت دونوں کو 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت 2 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ یوں تینوں دفعات کے تحت سزاؤں کا مجموعہ 13 سال بنتا ہے، لیکن عدالت نے انہیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا، جس کے بعد مؤثر سزا 10 سال رہ گئی۔ دونوں پر مجموعی جرمانہ 2، 2 لاکھ روپے بنتا ہے۔
فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔ رپورٹس کے مطابق استغاثہ نے مقدمے میں مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے تھے۔
کیس کا پس منظر کیا ہے؟
یہ مقدمہ اکتوبر 2024 کے واقعے سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق 25 اکتوبر 2024 کو راولپنڈی میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری امور میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں درج ہوا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی اور مقدمے کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے گواہوں پر جرح کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق جیل ٹرائل کے دوران میڈیا اور عوام کو سماعت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس پر قانونی حلقوں اور فریقین کی جانب سے تحفظات سامنے آئے۔
دفاع کا مؤقف
دفاعی وکلا نے مقدمے کے دوران عدالت کے بعض احکامات کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق دفاع کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 10-اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کا مؤقف اختیار کیا گیا۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے کارروائی پر حکم امتناع جاری نہیں کیا جبکہ سپریم کورٹ میں متعلقہ درخواستیں بروقت سماعت کے لیے مقرر نہ ہو سکیں۔ ایک وکیل کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اعلیٰ عدالتوں میں درخواستیں زیر التوا ہونے کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت فیصلہ نہیں سنا سکتی تھی۔ یہ مؤقف دفاع کی جانب سے سامنے آیا ہے، عدالت کے حتمی حکم میں سزا برقرار ہے۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
ایمان مزاری سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں اور انسانی حقوق کے مقدمات میں سرگرم وکیل کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ بھی وکیل ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں عدالتی فیصلوں اور انسانی حقوق کے معاملات پر بحث جاری ہے، اور اس کیس پر قانونی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ یہ فیصلہ سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق اس جوڑے کے علیحدہ کیس سے مختلف ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس علیحدہ کیس میں جنوری میں انہیں مجموعی طور پر 17 سال کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے بعد ستمبر میں سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزا معطلی کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ تازہ فیصلہ سیکیورٹی بیریئرز والے کیس میں سنایا گیا ہے۔
دفاعی فریق کے پاس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا قانونی راستہ موجود ہے، اور آئندہ دنوں میں اپیلوں سے متعلق پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
مزید متعلقہ خبریں: سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری اور سرگودھا پٹواری کو 31 سال قید۔
ذرائع: ایم ایم نیوز، ڈیلی پاکستان، پاکستان آبزرور، اردو پوائنٹ۔