بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر سے نیچے گر گیا

0

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن پیر 26 اکتوبر 2026 کو 80 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے آ گیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بٹ کوائن ایشیائی تجارت کے دوران 1.4 فیصد تک گر کر 79 ہزار 300 ڈالر سے بھی نیچے چلا گیا تھا، بعد میں کچھ بحالی کے بعد یہ 80 ہزار ڈالر کے قریب ٹریڈ کرتا رہا۔ سرمایہ کاروں کی محتاط رویے نے کرپٹو مارکیٹ کے ساتھ ساتھ عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔

گراوٹ کی وجوہات

رپورٹ کے مطابق اس گراوٹ کی بڑی وجہ خطرے سے گریز کا رجحان ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کا شرح سود سے متعلق فیصلہ 28 اکتوبر کو متوقع ہے، اور اس سے قبل سرمایہ کار بڑی پوزیشنیں لینے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق کاروبار پر سوالات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اے آئی کمپنیوں کے بھاری اخراجات اور قرضوں پر تشویش کا شکار ہیں۔ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 0.2 فیصد گرا، جب کہ جاپان کے نکی میں چپ سے متعلق حصص سب سے زیادہ گرنے والوں میں شامل رہے۔

ای ٹی ایف سے سرمایہ کا انخلا

بٹ کوائن کی قیمت پر ایک اور دباؤ امریکا میں لسٹڈ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کے انخلا کا بھی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو ان فنڈز سے 772.4 ملین ڈالر نکالے گئے، جب کہ اسی ہفتے کے شروع میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری آئی تھی۔ مارننگ اسٹار اور ڈاؤ جونز کے مطابق بٹ کوائن گزشتہ پیر سے اب تک 7 فیصد گر چکا ہے۔ جے پی مورگن کے اندازے کے مطابق جمعرات کو امریکی اسپاٹ بٹ کوائن مصنوعات سے 636 ملین ڈالر کی واپسی ہوئی۔

دیگر کرپٹو کرنسیوں کی صورتحال

بٹ کوائن کے ساتھ دیگر بڑی کرپٹو کرنسیاں بھی گراوٹ کا شکار رہیں۔ ایتھیریم تقریباً ایک فیصد گر کر 2 ہزار 306 ڈالر کے قریب آ گیا، جو 2 ہزار 300 ڈالر کی اہم سپورٹ سطح کے قریب ہے۔ کوائن مارکیٹ کیپ کے اعداد کے مطابق بٹ کوائن 24 گھنٹوں میں 1.68 فیصد گر کر 79 ہزار 437 ڈالر پر آ گیا، جب کہ اس کی مارکیٹ کیپ 1.60 ٹریلین ڈالر سے نیچے چلی گئی۔ سولانا 2.23 فیصد گر کر 100 ڈالر پر آ گیا، جب کہ سونے سے منسلک کرپٹو کرنسیوں نے مثبت کارکردگی دکھائی۔

ماہرین کی رائے

آربٹ مارکیٹس کی شریک بانی کیرولین مورون کے مطابق بٹ کوائن اب تک اے آئی قرضوں سے متعلق خدشات کے مقابلے میں نسبتاً مضبوط رہا ہے، لیکن اب مارکیٹ کی توجہ فیڈ کے اجلاس اور اس کے بعد امریکی وسط مدتی انتخابات پر ہے۔ اپولو کرپٹو کے پورٹ فولیو منیجر پراتک کالا کے مطابق بٹ کوائن کئی منظم فنڈز اور الگورتھم ٹریڈرز کے لیے خطرے والی ٹوکری میں شامل ہے، اس لیے جذبات خراب ہونے پر یہ زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1220
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2021

پاکستان کے لیے پس منظر

پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے یہ گراوٹ اس لیے بھی اہم ہے کہ صرف پانچ دن پہلے 21 اکتوبر کو بٹ کوائن 83 ہزار 500 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا، یعنی ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس کی قیمت میں تقریباً 4 ہزار ڈالر کی کمی آئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے بھی عالمی مارکیٹوں میں بے چینی بڑھا رکھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فیڈ کے 28 اکتوبر کے فیصلے کے بعد ہی کرپٹو مارکیٹ کی سمت واضح ہو سکے گی۔

ماخذ: بلومبرگ بذریعہ بزنس ٹائمز، منی ویب اور ہندو بزنس لائن، 26 اکتوبر 2026؛ مارننگ اسٹار/ڈاؤ جونز اور کوائن مارکیٹ کیپ کے اعداد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *