تبت زلزلہ — زخمی 65 ہو گئے، 12,489 افراد محفوظ مقام منتقل

0

چین کے تبت خودمختار علاقے میں 22 اکتوبر کی رات آنے والے 7 شدت کے زلزلے کے بعد زخمیوں کی تعداد بڑھ کر 65 ہو گئی ہے، جبکہ ہلاک شدگان کی تعداد 16 پر برقرار ہے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں 11 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور 54 معمولی زخمی ہیں۔ اب تک 12,489 متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے اور ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔

زلزلے کا مرکز تبت کے شمالی شہر ناگچو کے مشرق-شمال مشرق میں تقریباً 191 کلومیٹر دور تھا، اور اس کا وقت مقامی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر ریکارڈ کی ہے۔ ناگچو دارالحکومت لہاسا سے 300 کلومیٹر سے زائد شمال میں واقع ایک کم آبادی والا بلند و بالا علاقہ ہے۔

زخمیوں کی تعداد کیوں بڑھی؟

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق جمعہ کو ناگچو پولیس ڈیپارٹمنٹ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بدستور 16 ہے۔ اس سے قبل جمعرات کی رات کو جاری ابتدائی اعداد و شمار میں 16 ہلاکتیں اور 54 زخمی بتائے گئے تھے۔ حکام کے مطابق 413 آفٹر شاکس بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن کی وجہ سے ریسکیو ٹیمیں مزید ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں۔

ریسکیو آپریشن اور امدادی کارروائیاں

زلزلے سے کم از کم 339 گھر اور 20 مویشیوں کے باڑے منہدم ہو چکے ہیں۔ ناگچو میڈیا آفس کے مطابق مقامی کاؤنٹی سے 1,600 سے زائد افراد ریسکیو کاموں میں تعینات ہیں، جبکہ 300 سے زائد پولیس اہلکار زلزلے کے مرکز کی جانب روانہ کیے گئے ہیں جو گھروں کے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔

امدادی سامان میں 1,000 تیار شدہ رہائشی یونٹس، 3,200 سے زائد خیمے، 2,800 فولڈنگ بستر، رضائیاں، چولہے اور گرم کپڑے شامل ہیں۔ چائنا ریلوے کے مطابق متاثرہ حصے پر مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت جمعہ کی صبح کم رفتار کے ساتھ بحال کر دی گئی، جبکہ اسٹیٹ گرڈ کے مطابق علاقے کے 1,937 گھروں میں بجلی بحال ہو چکی ہے۔

سڑکیں بند، موسم بھی رکاوٹ

زلزلے سے ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قومی شاہراہ 317 کا ایک حصہ بند کر دیا گیا ہے، جہاں صرف ہنگامی، ریسکیو اور سرکاری امدادی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے۔ چین کی قومی خبر رساں ایجنسی شِنہوا کے مطابق علاقے کے کچھ حصوں میں مواصلات بھی متاثر ہوئے ہیں، اور اگلے تین دنوں میں وقفے وقفے سے برف باری کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس سے ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کے مطابق یہ گزشتہ پانچ برسوں میں اس خطے میں آنے والا سب سے بڑا زلزلہ ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2025 میں تبت کے تینگری کاؤنٹی میں آنے والے زلزلے میں 126 افراد ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

مزید تفصیل ہماری ابتدائی رپورٹ میں پڑھیں۔

ماخذ: رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، شِنہوا اور یو ایس جی ایس کی رپورٹس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *