ترسیلات زر 45 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان، اسٹیٹ بینک

0

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال 2026-27 کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا تخمینہ بڑھا کر 45 ارب ڈالر کر دیا ہے، جو اس سے پہلے 44 ارب ڈالر تھا۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالیسی کے فیصلے پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک کی بیرونی کھاتوں کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور پاکستان اب خطرے والے زون سے باہر نکل چکا ہے۔

ترسیلات زر میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

گورنر کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زر مضبوط رہیں۔ جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران بیرون ملک پاکستانیوں نے تقریباً 10.9 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ یہی مضبوط آغاز نئے تخمینے کی بنیاد بنا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر کی لاٹری اسکیم کے تحت سہ ماہی بنیادوں پر 4 ارب روپے کے انعامات بھی رکھے گئے ہیں، تاہم ابھی تک اس اسکیم کا ترسیلات پر کوئی قابل پیمائش اثر سامنے نہیں آیا۔ بینک کو توقع ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اسکیم ترسیلات میں مددگار ثابت ہوگی۔

زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

گورنر جمیل احمد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر اب تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں۔ چند سال قبل یہ ذخائر صرف 2.8 ارب ڈالر تک گر گئے تھے، اس لحاظ سے یہ ایک بڑی بحالی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا ہدف ہے کہ دسمبر 2026 کے آخر تک ذخائر 23 ارب ڈالر اور جون 2027 کے آخر تک 25 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں۔ ان تخمینوں میں پانڈا بانڈز، کثیرالجہتی قرض دہندگان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے متوقع رقوم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

برآمدات، درآمدات اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال میں برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جن میں چاول، ہائی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور خدمات کی برآمدات میں بحالی نمایاں ہے۔ دوسری طرف درآمدات 71 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جس کی وجہ معاشی سرگرمیوں میں بحالی اور قیمتوں میں اضافہ ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 874 ملین ڈالر رہا۔

ٹیکس وصولی اور قرضوں میں بہتری

مرکزی بینک کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس وصولی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد بڑھ کر 3.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی اور ہدف سے 33 ارب روپے زیادہ رہی۔ براڈ منی کی شرح نمو 9 اکتوبر تک 12.7 فیصد رہی، جبکہ نجی شعبے کو قرضوں میں 14.1 فیصد اضافہ ہوا۔ اسٹیٹ بینک نے معاشی نمو کا تخمینہ 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔ واضح رہے کہ اسی پریس کانفرنس میں شرح سود 12 فیصد کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس پر کاروباری حلقوں کا ردعمل پہلے ہی سامنے آ چکا ہے۔

عام پاکستانیوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟

ترسیلات زر اور ذخائر میں بہتری کا مطلب یہ ہے کہ بیرونی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی دستیابی بہتر ہوئی ہے، جس سے روپے پر دباؤ کم ہوتا ہے اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا خطرہ گھٹتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہتری برقرار رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر قابو ضروری ہے، ورنہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک شرح سود 12 فیصد، کاروباری طبقہ تقسیم اور آئی ایم ایف کا انتباہ، خطے کی معیشت سکڑنے کا خدشہ۔

ذرائع: بزنس ریکارڈر، نکتہ، پاکستان ٹائمز۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *