جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملہ، مسافر محفوظ رہے
ڈیرہ مراد جمالی کے قریب پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر نامعلوم مسلح افراد نے راکٹ حملہ کر دیا، تاہم پولیس کے مطابق ٹرین اور اس میں سوار تمام مسافر محفوظ رہے۔ واقعہ 28 اکتوبر کو نوتل پولیس اسٹیشن کی حدود میں خالق آباد کے علاقے میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے ریلوے ٹریک کے مشرق میں تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے سے ٹرین کو نشانہ بنایا۔
حملہ کیسے ہوا؟
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے چلتی ٹرین پر راکٹ فائر کیے اور اس کے بعد خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق دو راکٹ فائر کیے گئے، جبکہ ایک اور رپورٹ میں چار راکٹوں کا ذکر ہے۔ دونوں رپورٹوں میں یہ بات مشترک ہے کہ کوئی بھی راکٹ ٹرین کی بوگیوں سے نہیں ٹکرایا، بلکہ راکٹ ٹریک سے کچھ فاصلے پر پھٹ گئے۔ پولیس کے مطابق ٹرین کے انجن ڈرائیور نے رفتار برقرار رکھی اور ٹرین کو خطرناک علاقے سے نکال کر اگلے اسٹیشن تک پہنچایا۔
مسافر اور ٹرین محفوظ
پولیس حکام کے مطابق حملے کے باوجود ٹرین کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور مسافروں میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور دشوار گزار علاقے کی طرف فرار ہو گئے۔ ٹرین بعد ازاں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئی، جبکہ روٹ پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق
اسی روز پڑوسی ضلع ڈیرہ بگٹی میں فائرنگ کے دو الگ واقعات میں تین افراد جاں بحق ہو گئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کچھی کینال منصوبے کے شاہ نمبر 4 کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس سے تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے۔ پولیس نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم جاں بحق افراد کی شناخت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔
جعفر ایکسپریس پہلے بھی نشانہ بنتی رہی ہے
جعفر ایکسپریس کوئٹہ اور پشاور کے درمیان چلنے والی اہم مسافر ٹرین ہے اور ماضی میں بھی اس پر حملے ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ مستونگ میں ریلوے ٹریک پر نصب بم پھٹنے سے ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے تھے۔ اس پس منظر میں بلوچستان میں ریلوے روٹس کی سیکیورٹی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
متعلقہ خبریں: انگور اڈا پر پاکستان کا افغان دعووں کو مسترد کرنا (https://niazitvnews.com/?p=2486) اور نوشکی کالج حملے میں 2 طالبات کی شہادت (https://niazitvnews.com/?p=2514)۔
ذرائع: ڈیلی قدرت (28 اکتوبر 2026) اور یے جہاں کی رپورٹ (28 اکتوبر 2026)؛ راکٹوں کی تعداد کے بارے میں رپورٹوں میں فرق ہے، اس لیے یہ تفصیل منسوب رپورٹوں کے طور پر دی گئی ہے۔