جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ کیس: فہیم اکرم کا 2 روزہ ریمانڈ منظور

0

لاہور کی ایک عدالت نے منگل 3 نومبر 2026 کو جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی فروخت کے مبینہ 35 ارب روپے کے کیس میں دو ملزمان فہیم اکرم اور نعیم کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔ عدالت نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت کی کہ دونوں ملزمان کو 5 نومبر کو دوبارہ پیش کیا جائے۔

عدالت میں کیا ہوا

این سی سی آئی اے نے دونوں ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کے سامنے پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید پانچ روز کی تحویل مانگی، تاہم مجسٹریٹ نے پانچ کے بجائے دو روز کا ریمانڈ منظور کیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم کے لیے یہ تیسرا اور شریک ملزم کے لیے دوسرا ریمانڈ توسیع ہے۔

ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے اگست 2023 سے “لیبلز بینک” نامی ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ آن لائن فروخت کیے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق اس مبینہ فراڈ سے امریکی ڈاک خانے کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچا، جو پاکستانی روپوں میں تقریباً 35 ارب روپے بنتا ہے۔

کیس کا پس منظر

مرکزی ملزم فہیم اکرم خانے وال کا 33 سالہ رہائشی بتایا جاتا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق فلوریڈا کی ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے ستمبر 2026 میں ان پر فرد جرم عائد کی تھی، جس میں 51 لاکھ سے زائد جعلی ڈاک لیبل فروخت کرنے اور امریکی ڈاک خانے کو 126 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ امریکی اٹارنی آفس سدرن ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا نے 28 ستمبر کو اس چارج کا اعلان کیا تھا۔

این سی سی آئی اے کے لاہور زون نے مرکزی ملزم کو اکتوبر کے آخر میں لاہور سے گرفتار کیا تھا اور 21 اکتوبر کو انہیں پہلی بار پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایجنسی کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس کے بعد 27 اکتوبر اور 30 اکتوبر کو بھی ریمانڈ میں توسیع ہوئی۔ این سی سی آئی اے کے مطابق تفتیش کے دوران پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، 35 مقامات پر چھاپے مارے گئے اور 47 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔

مالیاتی سراغ اور بینک اکاؤنٹس

20 اکتوبر کو لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران این سی سی آئی اے کے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے بتایا تھا کہ اس مبینہ نیٹ ورک میں 16 بینک اکاؤنٹس استعمال ہوئے۔ ایجنسی کے مطابق ان اکاؤنٹس کے ذریعے فراڈ کی رقم منتقل کی گئی اور ان میں سے بعض اکاؤنٹس ملزم کے قریبی رشتہ داروں سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔

این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے جعلی لیبل تقریباً 2 ڈالر فی لیبل کے حساب سے فروخت کیے۔ عدالت میں پیش کیے گئے موقف کے مطابق ویب سائٹ اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک فعال رہی۔ تاہم یہ تمام الزامات ہیں اور ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے، اس لیے انہیں مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آگے کیا ہوگا

5 نومبر کو ملزمان کی دوبارہ پیشی پر این سی سی آئی اے عدالت کو تفتیش کی پیش رفت سے آگاہ کرے گی اور اگر ضرورت ہوئی تو مزید ریمانڈ کی درخواست کر سکتی ہے۔ یہ کیس پاکستان میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑا مقدمہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں امریکی اداروں کی تحقیقات بھی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی ڈاک خانے کو 126 ملین ڈالر کا نقصان، فہیم اکرم کی گرفتاری (https://niazitvnews.com/?p=1126) اور آن لائن جرائم پر این سی سی آئی اے کی کارروائیاں (https://niazitvnews.com/?p=2186)۔

ماخذ: ڈان اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *