جھنگ ڈی سی برطرف: جیپ ریلی میں سرکاری گاڑی کا معاملہ
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اتوار کے روز جھنگ کے ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا جس میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی گاڑی جیپ ریلی میں شریک گاڑیوں کے ساتھ چلتی نظر آ رہی تھی۔ روزنامہ دی نیشن نے یہ خبر 26 اکتوبر کو شائع کی ہے۔
ویڈیو میں کیا نظر آیا؟
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں پیرا کی ڈبل کیبن گاڑی گرد آلود راستے پر دیگر گاڑیوں کے ساتھ سفر کرتی دکھائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس میں الزام لگایا گیا کہ یہ گاڑی ایک سیاسی شخصیت، رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ کو پروٹوکول دے رہی تھی۔ تاہم وزیر اعلیٰ کے بیان میں کسی بھی فرد کا نام نہیں لیا گیا جسے مبینہ طور پر فائدہ پہنچایا جا رہا تھا — اس حصے کو الزام کے طور پر ہی پیش کیا جا رہا ہے، حتمی حقیقت کے طور پر نہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کیا کہا؟
وزیر اعلیٰ نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری اتھارٹی کے وسائل کو اس کے باضابطہ دائرہ کار سے باہر سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنا انتظامی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی اور قائم شدہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو میں ایک کار ریلی دکھائی دیتی ہے جس میں پیرا کی گاڑی دیگر شریک گاڑیوں کے ساتھ نظر آ رہی ہے، اور ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔
بابر صاحب دین کا کیا ہوگا؟
صوبائی حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے بعد میں بابر صاحب دین کی تبدیلی کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ وہ گریڈ 18 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس افسر ہیں۔ حکم کے مطابق انہیں ڈپٹی کمشنر جھنگ کے عہدے سے ہٹا کر محکمے کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ حکم ان کی سرکاری ملازمت سے برطرفی نہیں، بلکہ عہدے سے تبدیلی ہے — مزید احکامات تک وہ محکمے میں رپورٹ کریں گے۔
یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟
یہ فیصلہ اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس میں ایک سینئر ضلعی افسر کو سوشل میڈیا ویڈیو کے بعد فوری طور پر ہٹایا گیا، جس سے سرکاری وسائل کے استعمال پر وزیر اعلیٰ کے سخت مؤقف کا پیغام گیا ہے۔ اسی ہفتے وزیر اعلیٰ نے غیر مجاز پولیس اسکارٹ بھی فوری واپس لینے کا حکم دیا تھا، جس سے انتظامی نظم و ضبط کی مہم کا تاثر مزید مضبوط ہوا ہے۔
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پیرا کی گاڑی کے ریلی میں استعمال کی انکوائری میں مزید کیا سامنے آتا ہے اور آیا اس معاملے میں دیگر افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں جرائم 63 فیصد کم، سی سی ڈی کا دعویٰ اور مری میں وین کھائی میں گر گئی، 7 افراد جاں بحق۔
ماخذ: روزنامہ دی نیشن — 26 اکتوبر 2026۔