خواجہ آصف کا انکشاف — سرکاری افسران کی “بیوروکریٹک ایکسوڈس”، بیرون ملک قیام کی خفیہ تیاریوں کا الزام
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سرکاری افسران پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد سینئر بیوروکریٹس سرکاری ملازمت کے دوران ہی بیرونِ ملک قیام کی “سوچی سمجھی منصوبہ بندی” کر رہے ہیں — ان کے بقول یہ افسران پاکستان کو اپنا مستقل گھر سمجھنے کے بجائے اسے صرف ایک عارضی پڑاؤ سمجھتے ہیں۔
ایکس پر انکشاف — پرتگال نئی پسندیدہ منزل
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی بیوروکریسی میں باصلاحیت اور ایماندار افسران بھی موجود ہیں، لیکن گزشتہ کئی برسوں میں متعدد افسران نے کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو اپنا مستقل ٹھکانا بنا لیا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق پرتگال حالیہ برسوں میں اس “بیوروکریٹک ایکسوڈس” کی سب سے نمایاں منزل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا: “ان افسران نے یہ تیاری اس وقت کی جب وہ حکومتِ پاکستان کے ملازم تھے، اور یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا۔ اس سے ان کی وطن سے وابستگی اور دورانِ ملازمت فرائض کی ادائیگی پر سوال اٹھتے ہیں۔”
مبینہ کردار — بغیر نام اور ثبوت کے دعوے
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ جن افسران کے نام اس معاملے میں سامنے آئے ہیں وہ اہم عہدوں پر فائز رہے اور لگاتار حکومتوں کے قریب رہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ایک ایسا شخص جو ان بیوروکریٹس کی مستقل رہائشی دستاویزات (پی آر) کی تیاری میں سہولت کار تھا، ان افسران سے بھاری رقوم وصول کرنے کے بعد فرار ہو گیا۔ تاہم انہوں نے نہ تو کسی افسر کا نام لیا اور نہ ہی اپنے دعووں کی تائید میں کوئی دستاویزی ثبوت پیش کیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اعلیٰ عہدوں پر رہنے والے اور سرکاری مراعات سے لطف اندوز ہونے والے سینئر افسران کی پاکستان سے وفاداری کیا واقعی ہر شبے سے بالا تھی، یا وہ یہاں صرف “ٹرانزٹ” میں تھے؟
پس منظر اور ردعمل
یہ پہلا موقع نہیں کہ خواجہ آصف نے یہ معاملہ اٹھایا ہو — ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے چند ماہ قبل بھی سوشل میڈیا پر اسی موضوع کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ان کے بیان پر بین الاقوامی میڈیا میں بھی تبصرے سامنے آئے ہیں؛ ایک بھارتی تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستانی بیوروکریسی ملکی مستقبل پر اعتماد کھو رہی ہے۔
ماخذ: ایکسپریس ٹربیون (18 اکتوبر 2026)، پاکستان ٹوڈے (19 اکتوبر 2026)، ٹائمز آف انڈیا (21 اکتوبر 2026)، ویون (21 اکتوبر 2026)، این ڈی ٹی وی (21 اکتوبر 2026)