خیبر میں پولیو کا 8واں کیس، 13 ماہ کی بچی متاثر

0

پاکستان میں سال 2026 کا آٹھواں پولیو کیس سامنے آ گیا ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) نے تصدیق کی ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والی 13 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ رواں سال خیبر ضلع کا دوسرا اور صوبہ خیبرپختونخوا کا چھٹا کیس ہے۔

بچی کا تعلق تحصیل باڑہ کی یونین کونسل جانباز بی سے ہے۔ حکام کے مطابق، پاکستان پولیو خاتمہ پروگرام نے کیس کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں ہدف شدہ ویکسینیشن سرگرمیاں اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

خیبرپختونخوا میں وائرس کیوں برقرار ہے؟

رواں سال کے آٹھ کیسز میں سے چھ خیبرپختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے چار جنوبی اضلاع سے ہیں، جبکہ باقی دو کیسز سندھ سے سامنے آئے ہیں۔ پشاور بلاک، جس میں پشاور اور خیبر اضلاع شامل ہیں، سے مثبت ماحولیاتی نمونوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وائرس اب بھی علاقے میں گردش کر رہا ہے۔

پولیو پروگرام کے بیان کے مطابق، “کوئی بچہ اس وقت تک پولیو سے محفوظ نہیں ہوگا جب تک تمام بچوں کو مستقل طور پر ویکسین نہ لگائی جائے اور ملک بھر میں ان کا تحفظ یقینی نہ بنایا جائے۔” یہ پیغام والدین کے لیے ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر مہم میں قطرے ضرور پلائیں، چاہے انہیں پہلے کتنی ہی خوراکیں کیوں نہ مل چکی ہوں۔

2 سے 8 نومبر تک ملک گیر مہم

اس نئے کیس کے سامنے آنے کے ساتھ ہی، 2 سے 8 نومبر تک ملک کے 97 منتخب اضلاع میں ذیلی قومی پولیو مہم شروع ہو رہی ہے۔ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے اور پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 24 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پہلی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنے ہر بچے کو قطرے ضرور پلائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہدف جون 2027 تک ملک کو پولیو سے پاک کرنا ہے، اور اس کے لیے ہر بچے تک پہنچنا ناگزیر ہے۔

پاکستان کی پولیو کے خلاف طویل جنگ

پولیو ویکسین کی بدولت پاکستان نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں سالانہ تقریباً 20 ہزار کیسز سے کمی کرتے ہوئے 2025 میں یہ تعداد 31 تک محدود کر دی تھی، جو 99.8 فیصد کمی کے برابر ہے۔ تاہم، 2026 میں اب تک 8 کیسز سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آخری مراحل میں بھی وائرس کا خاتمہ سب سے مشکل کام ہے۔

ماہرین کے مطابق، پولیو کا خاتمہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہر مہم میں ہر بچے تک رسائی یقینی بنائی جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ماضی میں ویکسینیشن سے انکار یا رسائی کی مشکلات رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی پولیو کیس کے بعد سندھ حکومت کا ہنگامی اجلاس (https://niazitvnews.com/?p=1342) اور پولیو مہم 2 سے 8 نومبر: 24 ملین بچوں کا ہدف (https://niazitvnews.com/?p=3138)۔

والدین کے لیے اہم پیغام

پولیو پروگرام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ 2 سے 8 نومبر کی مہم کے دوران اور اس کے بعد کی ہر مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے دو قطرے ضرور پلائیں۔ یہ قطرے مفت، محفوظ اور بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کا واحد ذریعہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق، یہ خبر جیو نیوز، ڈان، عرب نیوز اور پاکستان ٹوڈے کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس پر مبنی ہے، جن میں این ای او سی کی تصدیق کو نقل کیا گیا ہے۔

ماخذ: جیو نیوز، ڈان، عرب نیوز، پاکستان ٹوڈے، یکم نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *