ریاض میں فضائی خطرے کا الرٹ، 8 دھماکے
سعودی حکام نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کی رات دارالحکومت ریاض میں “فضائی خطرے” کا الرٹ جاری کر دیا، جب کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے شہر میں کم از کم آٹھ دھماکے سنے۔ سعودی سول ڈیفنس نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض، الخرج گورنریٹ اور جنوبی شہر نجران کے رہائشیوں کو ممکنہ خطرے سے خبردار کیا اور محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
الرٹ میں کیا کہا گیا
سعودی حکام کی جانب سے فون پر بھیجے گئے الرٹ میں لکھا تھا: “خبردار: ریاض شہر فضائی خطرے کی زد میں ہے۔” اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سول ڈیفنس نے ریاض، الخرج اور نجران میں “ممکنہ خطرے” کی وارننگ جاری کی۔ دی پیننسلا کی رپورٹ کے مطابق الرٹ میں عوام سے کہا گیا کہ وہ چوکس رہیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ ڈان کی لائیو کوریج کے مطابق یہ الرٹ رات تقریباً 10 بجے (پاکستانی وقت) کے قریب سامنے آیا۔
حالیہ دنوں میں سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ
اے ایف پی کی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ اس طرح کی وارننگز حالیہ ہفتوں میں اکثر حوثی حملوں سے پہلے جاری ہوتی رہی ہیں، تاہم جمعرات کی رات کے الرٹ کی فوری وجہ کے بارے میں سعودی حکام نے تفصیل نہیں بتائی۔ اس لیے اس رات کے واقعے کو کسی مخصوص گروپ سے منسوب کرنا قبل از وقت ہوگا۔
گزشتہ تین دنوں کے دوران سعودی فضائی دفاع نے متعدد میزائل روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق جمعرات کی صبح مشرقی صوبے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل تباہ کر دیا گیا، جس میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ اس سے ایک روز پہلے بدھ کو طائف کی طرف داغا گیا میزائل روکا گیا، جب کہ منگل کی رات ریاض میں روکے گئے دو میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ایک عمارت، ایک تعمیراتی منصوبے اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا تھا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
یہ الرٹ ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ فروری میں شروع ہوئی تھی، اور امریکا نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کا عندیہ دے رکھا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں بھی جاری ہیں، جن میں قطر اور پاکستان کا کردار نمایاں بتایا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے لیے یہ صورتحال خاصی تشویش ناک ہے، کیونکہ ریاض اور مشرقی صوبے میں بڑی تعداد میں پاکستانی محنت کش اور خاندان رہتے ہیں۔ پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سعودی سول ڈیفنس کی سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر مصدقہ خبروں پر توجہ نہ دیں۔
مزید پڑھیں: دمام ایئرپورٹ حملے کی تفصیل یہاں: https://niazitvnews.com/?p=1301
سعودی عرب کی صورتحال سے متعلق پہلے کی رپورٹ یہاں: https://niazitvnews.com/?p=1211
ذرائع: اے ایف پی (بذریعہ لورینٹ ٹوڈے)، ڈان لائیو کوریج، دی پیننسلا، پاکستان ٹی وی — 29 اکتوبر 2026۔