سنگاپور کے وزیر خارجہ کل اسلام آباد آئیں گے
سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالا کرشنن جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان ڈیزاسٹر مینجمنٹ تعاون کا معاہدہ تبادلہ کیا جائے گا۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات 29 اکتوبر کو جاری کردہ کرٹن ریزر میں بتایا کہ یہ دورہ اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ سنگاپور کی وزارت خارجہ کے مطابق بالا کرشنن اسلام آباد میں ڈار سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے، اور ڈار ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیں گے۔
60 سالہ سفارتی تعلقات کا سنگ میل
یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان اور سنگاپور کے سفارتی تعلقات کے قیام کو 60 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ سنگاپور کے 2027 میں آسیان کی چیئرمین شپ سنبھالنے سے پہلے بھی ہو رہا ہے، جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر بات چیت کریں گے اور علاقائی و عالمی امور پر خیالات کا تبادلہ کریں گے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک باہمی احترام اور دیرینہ دوستی کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات رکھتے ہیں، اور یہ دورہ شراکت داری کو مزید گہرا اور متنوع بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ معاہدہ اور دیگر ملاقاتیں
دورے کے دوران پاکستان کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور سنگاپور کی سول ڈیفنس فورس (ایس سی ڈی ایف) کے درمیان ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں تعاون کا مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) تبادلہ کیا جائے گا۔ سنگاپور کی وزارت خارجہ کے مطابق اس تعاون میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ جدت، تحقیق اور تعلیم کے شعبے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
سنگاپور کے وزیر خارجہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان کے پروگرام میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) میں نیشنل سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دورہ بھی شامل ہے، جہاں وہ پاکستان کی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت سے آگاہی حاصل کریں گے۔
پس منظر
سنگاپور اور پاکستان کے درمیان تجارت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سمیت کئی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے حکام کے مطابق اس دورے سے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار ملنے کی توقع ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور موسمیاتی لچک کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
پاکستان اور سنگاپور کے تعلقات کی حالیہ مثالوں میں مئی 2026 میں ڈار اور بالا کرشنن کے درمیان رابطہ بھی شامل ہے، جس میں امریکی حکام کی جانب سے ضبط کیے گئے بحری جہازوں پر سوار پاکستانیوں اور ایرانیوں کی فلاح و واپسی کے لیے سنگاپور سے تعاون کی درخواست کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور جرمنی کے درمیان تجارتی تعاون پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2559 اور تائیوان ایئرلائنز کو پاکستانی فضائی حدود کی بحالی سے متعلق خبر https://niazitvnews.com/?p=2601 بھی ملاحظہ کریں۔
ذرائع: پاکستان کی وزارت خارجہ (کرٹن ریزر پی آر نمبر 312/2026)، چینل نیوز ایشیا، ٹریبیون، ڈنیا نیوز، بزنس ریکارڈر — 29 اکتوبر 2026۔