سپریم کورٹ نے ٹرمپ کی کیلیفورنیا بیلٹ درخواست مسترد کر دی
امریکی سپریم کورٹ نے 2 نومبر 2026 کو ٹرمپ انتظامیہ کی وہ ہنگامی درخواست مسترد کر دی جس میں کیلیفورنیا سے کہا گیا تھا کہ وہ تقریباً 20 ہزار سے زائد ووٹرز کے میل بیلٹس کو الگ رکھے جن کے بارے میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ شاید امریکی شہری نہیں ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے صرف ایک روز قبل سنایا، اور اس فیصلے کے بعد کیلیفورنیا میں ووٹوں کی گنتی کا موجودہ طریقہ کار برقرار رہے گا۔
عدالت کا فیصلہ کیا تھا
خبر رساں اداروں کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک مختصر، غیر دستخط شدہ حکم کے ذریعے محکمہ انصاف کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کیا اور اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، جو ہنگامی مقدمات میں معمول کی کارروائی ہے۔ کسی بھی جج نے علانیہ اختلاف رائے ظاہر نہیں کیا۔ انتظامیہ نے عدالت سے کہا تھا کہ کیلیفورنیا کو ان ووٹرز کے بیلٹس الگ کرنے کا حکم دیا جائے جو محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی مرتب کردہ فہرست میں شامل ہیں، تاکہ ان کی شہریت کی تصدیق تک انہیں دیگر ووٹوں میں شامل نہ کیا جائے۔
انتظامیہ کا موقف اور کیلیفورنیا کا جواب
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وفاقی قانون کے تحت غیر شہریوں کا وفاقی انتخابات میں ووٹ ڈالنا جرم ہے، اور کیلیفورنیا اس قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ سالیسٹر جنرل ڈی جان ساور نے عدالت کو بتایا کہ اگر متنازع بیلٹس کو قانونی ووٹوں کے ساتھ ملا دیا گیا تو بعد میں انہیں الگ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ دوسری جانب کیلیفورنیا کا موقف ہے کہ یہ فہرست ناقابل اعتماد ہے اور اس میں ہزاروں اہل امریکی شہری بھی شامل ہو سکتے ہیں، اس لیے اس بنیاد پر ووٹ روکنا ہزاروں اہل ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کر سکتا ہے۔
نچلی عدالتوں میں کیا ہوا تھا
سپریم کورٹ جانے سے پہلے یہ معاملہ نچلی عدالتوں میں بھی انتظامیہ کے خلاف گیا تھا۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیوڈ کارٹر نے 28 اکتوبر کو محکمہ انصاف کی درخواست مسترد کر دی تھی، جبکہ اپیل کورٹ نے 2 کے مقابلے میں 1 کے فیصلے سے اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ اپیل کورٹ نے لکھا کہ غیر شہریوں کے ووٹ ڈالنے کو جرم قرار دینے والا وفاقی قانون ریاستوں کو بیلٹ سے نمٹنے کا کوئی خاص طریقہ اختیار کرنے کا پابند نہیں کرتا۔ ایک اور ڈسٹرکٹ جج جیمز بوزبرگ نے بھی 2 نومبر کو انتظامیہ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے فہرست کو ناقص قرار دیا۔
مڈٹرم انتخابات پر اس فیصلے کے اثرات
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو مڈٹرم انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 35 نشستوں اور 36 گورنروں کے عہدوں کا فیصلہ ہوگا۔ کیلیفورنیا میں تقریباً 23 ملین رجسٹرڈ ووٹرز کو بیلٹ بھیجے گئے تھے اور لاکھوں ووٹ پہلے ہی موصول ہو چکے ہیں۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے محکمہ انصاف کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے جسے وہ ریاست کے انتخابی عمل پر بے بنیاد حملہ قرار دیتے ہیں۔
یہ سپریم کورٹ میں انتخابی مقدمات میں ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ مہینوں میں ایک اور ناکامی ہے۔ ستمبر میں عدالت نے میل بیلٹ بھیجنے کے طریقے میں تبدیلی کی ایک اور تجویز بھی مسترد کر دی تھی، جس کے بارے میں انتخابی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اس سے مڈٹرم انتخابات میں سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی مڈٹرم انتخابات سے متعلق ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=3352 اور انتخابی عمل پر عدالتی حکم سے متعلق خبر https://niazitvnews.com/?p=2997
ماخذ: یو ایس اے ٹوڈے، سی این این، الجزیرہ اور ملے میل کی 2 تا 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔