شورو پارود: 30 اکتوبر کی ڈیڈ لائن، انخلا پر احتجاج

0

بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے شورو پارود میں مبینہ انخلا کے حکم کی ڈیڈ لائن آج 30 اکتوبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق حکام نے تقریباً 5 ہزار خاندانوں، یعنی تقریباً 30 ہزار افراد، کو اپنے آبائی گھروں سے نکل کر مخصوص کیمپوں میں منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم ایک منصوبہ بند سیکیورٹی آپریشن سے پہلے جاری کیا گیا تھا۔

حکم کیا ہے اور حکام کا موقف کیا ہے

رپورٹس کے مطابق حکام نے اس اقدام کی وجہ علاقے میں مسلح افراد کی موجودگی اور اسٹریٹجک راستوں کی حفاظت بتائی ہے، اور ان کا موقف ہے کہ متعلقہ زمین سرکاری ملکیت ہے اور انخلا کا فیصلہ صوبائی حکومت کی منظوری سے کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ خاندانوں کو عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جانا ہے، جہاں ان کے قانونی دعووں اور بنیادی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا۔

تاہم یہ حکم آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے، اور اس کی قانونی بنیاد، کیمپوں کی صورتحال اور متاثرہ برادریوں سے مشاورت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس مبینہ الٹی میٹم پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور انتظامی فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق ہزاروں افراد کی نقل مکانی سے ان کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے، برادریاں اپنی آبائی زمینوں سے الگ ہو سکتی ہیں، اور کمزور خاندان خوراک، صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے شعبہ انسانی حقوق ’پانک‘ نے بھی اس حکم کی مذمت کی ہے۔ پانک کے مطابق آبائی زمین صرف علاقہ نہیں بلکہ بلوچ عوام کی شناخت، تاریخ اور اجتماعی وجود کی بنیاد ہے، اور زبردستی نقل مکانی سے صرف رہائش کا نقصان نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ حکام شفاف طور پر بتائیں کہ نقل مکانی کا منصوبہ کیا ہے، بنیادی ضروریات کیسے پوری ہوں گی، اور متاثرہ خاندانوں کے حقوق اور وقار کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے گا۔

سردیوں اور واپسی کا سوال

ناقدین نے خاص طور پر سخت سردیوں کے موسم میں کیمپوں میں رہائش، صاف پانی، صحت کی سہولتوں اور صفائی کے انتظامات پر سوال اٹھایا ہے۔ پانک نے اقوام متحدہ کے مقامی آبادیوں کے حقوق کے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی آبادیوں کو ان کی آزاد، پیشگی اور باخبر رضامندی کے بغیر ان کی زمینوں سے زبردستی نہیں ہٹایا جانا چاہیے، اور انہیں منصفانہ معاوضہ اور واپسی کا اختیار ملنا چاہیے۔

یاد رہے کہ شورو پارود کے انخلا کا معاملہ پہلے بھی خبروں میں رہا ہے، اور اس بار ڈیڈ لائن کے دن انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید نے اسے دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی اصل تعداد، کیمپوں کی تیاری اور آپریشن کے دائرہ کار کے بارے میں حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

متعلقہ خبر: شورو پارود انخلا کے حکم کی پہلی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1473 — اور کیچ میں سیکیورٹی آپریشن پر صدر زرداری کا بیان: https://niazitvnews.com/?p=2625

ماخذ: یہ خبر ٹریبیون انڈیا (اے این آئی)، ٹیرر مانیٹر، ایشیا پوسٹ اور لوک مت ٹائمز کی 27 تا 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس پر مبنی ہے؛ انخلا کے حکم اور متعلقہ دعووں کو رپورٹس سے منسوب کر کے پیش کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *