شہباز شریف: کے پی ایمرجنسی مجبوری میں، پی ٹی آئی کی غفلت

0

پشاور — وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ “انتہائی مجبوری” میں کیا گیا۔ گورنر ہاؤس پشاور میں وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کی بحالی اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر تھا۔ یہ ان کا 11 اکتوبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور کا پہلا دورہ تھا۔

اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سمیت اعلیٰ سول و عسکری قیادت شریک تھی۔

ایمرجنسی کیوں لگائی گئی؟

وزیراعظم کے مطابق ایمرجنسی آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں نافذ کی گئی، جس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹا کر انتظامی اختیارات گورنر اور مشاورتی کونسل کو سونپ دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2017-18 تک خیبرپختونخوا میں امن بحال کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں صورتحال بگڑتی گئی۔

وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔ ان کے بقول امن کی یہ قیمت پوری قوم نے ادا کی اور اب اسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پی ٹی آئی پر “مجرمانہ غفلت” کا الزام

وزیراعظم نے صوبے کی سابق پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہشت گردوں کو واپس آنے کی دعوت دی — دی نیوز کے مطابق انہوں نے اسے “مجرمانہ غفلت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صوبائی حکومت نے تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کو نظر انداز کیا، پولیس کی 5 ہزار آسامیاں خالی پڑی رہیں اور سیف سٹی منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔

یہ الزامات وزیراعظم کے اپنے دعوے ہیں — پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی آئی ہے اور ایمرجنسی کو غیر آئینی قرار دیتی ہے۔

سیاسی پس منظر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وزیراعظم نے پشاور میں خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی نے علی امین گنڈاپور کو وفاق سے مذاکرات کے لیے نامزد کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ایمرجنسی کے دفاع کا یہ بیانیہ وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا باب ہے۔

ماخذ: دی نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، اسلام آباد ٹوڈے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *