شہباز شریف: کے پی میں طویل منصوبے روکیں، فوری ریلیف دیں
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں کو معطل کر کے فوری اور عوامی فلاح پر مبنی اقدامات کو ترجیح دینے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم نے ہفتہ 31 اکتوبر کو مسلم لیگ ن کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو فوری ریلیف کی ضرورت ہے، اس لیے چھوٹے مگر فوری اثر والے اقدامات پر توجہ دی جائے۔
وزیراعظم کا پیغام: چھوٹے قدم، فوری ریلیف
وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ اگر امن و امان بہتر کیا جائے، اسکول بنایا جائے اور اسپتالوں تک دوائیں پہنچائی جائیں تو 13 سال سے محروم عوام دعائیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل مدتی منصوبے معطل کیے جائیں اور ایسی سرگرمیوں پر زور دیا جائے جن کا فائدہ عوام کو فوری طور پر محسوس ہو۔ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے صوبے میں 13 سالہ دور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران بڑے بڑے دعوے اور نعرے تو لگے، لیکن عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہ ہو سکیں۔
وزیراعظم نے صوبے میں صحت کی سہولتوں، ادویات کی فراہمی، علاج معالجے کے انتظامات اور بدعنوانی کے خاتمے کے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور وسائل کے درست استعمال کا حساب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے صوبے میں جمہوری روایات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کی اجازت دی تھی۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کا دفاع
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا ایک بار پھر دفاع کیا۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات عملاً ختم ہو گئے تھے۔ نئے انتظام کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبائی حکومت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ کے پاس ہیں۔
وزیراعظم کے مطابق وفاق نے اختلافات مذاکرات سے حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں نے پی ٹی آئی سے 48 گھنٹے مذاکرات کیے، ایک مسودہ بھی تیار ہوا، لیکن اس کی منظوری کبھی نہ آئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری ہو گیا تھا، اور اگر بروقت فیصلہ نہ ہوتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا ذکر
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، مسلح افواج اور سیاسی قیادت کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ جانی اور معاشی نقصان اٹھایا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق 2017 اور 2018 میں قوم اور ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو گیا تھا، لیکن ان کا الزام ہے کہ 2019 اور 2020 میں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لا کر بسایا گیا، جس سے دہشت گردی دوبارہ سر اٹھانے لگی اور ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی فریقوں کو ساتھ ملانے کی دعوت دی تھی، جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تھا، لیکن ان کی اپیلوں پر توجہ نہ دی گئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف: کے پی ایمرجنسی مجبوری میں، پی ٹی آئی کی غفلت اور فضل الرحمان پر وزرا کا جوابی حملہ، پارلیمنٹ گرم۔
ذرائع: جیو نیوز، عرب نیوز اور اردو پوائنٹ — 31 اکتوبر 2026۔