عمران خان کی اسلام آباد جیل منتقلی: خبر اور تردید کیا ہے؟
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کی نئی جیل منتقلی کی خبروں نے ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 25 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم کو نومبر کے آخر میں اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 16 میں بننے والی نئی ماڈل جیل منتقل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے قبل اڈیالہ جیل کے ذرائع ان خبروں کو محض قیاس آرائی قرار دے چکے ہیں۔ اس لیے منتقلی کی حتمی تاریخ کے بارے میں ابھی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
ایکسپریس ٹریبیون کے حوالے سے یو اے نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی نئی جیل یکم سے 10 نومبر کے درمیان کھلنے کی تیاری میں ہے۔ جیل کے ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں تقریباً ڈیڑھ ہزار قیدی منتقل کیے جانے کا منصوبہ ہے، جن میں عمران خان بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس مرحلے میں صرف وہ قیدی منتقل ہوں گے جن کے مقدمات ابھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی منتقلی فروری 2027 سے شروع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کے لیے ایک خصوصی یونٹ مکمل کر لیا گیا ہے اور وہاں ویڈیو نگرانی کے نظام کی تنصیب آخری مرحلے میں ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق عمران خان کی منتقلی 20 سے 30 نومبر کے درمیان ہو سکتی ہے۔ اڈیالہ جیل کے ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسلام آباد کے قیدیوں اور زیر سماعت ملزمان کی فہرستیں پہلے ہی مرتب کر لی گئی ہیں اور نومبر میں منتقلی کی تیاریاں جاری ہیں۔
نئی جیل کیسی ہے؟
رپورٹ کے مطابق نئی جیل 90 ایکڑ رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں تین بیرک، 35 بستروں پر مشتمل چھوٹا اسپتال، مسجد اور باورچی خانہ مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے میں کھیل کا میدان، لائبریری، امام بارگاہ، چرچ اور خواتین و بچوں کے لیے الگ یونٹ بھی شامل ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اس سہولت کا دورہ کر چکے ہیں اور انہوں نے کام 31 اکتوبر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ منصوبے کی ابتدائی لاگت ساڑھے تین ارب روپے تھی، جو تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چار سال میں 20 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
دوسرا موقف: اڈیالہ ذرائع کی تردید
دوسری جانب اڈیالہ جیل کے ذرائع نے اس سے قبل جیو نیوز کو بتایا تھا کہ عمران خان کو اڈیالہ سے منتقل کرنے کا کوئی انتظامی عمل شروع نہیں ہوا ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کو انہوں نے محض قیاس آرائی قرار دیا تھا۔ ان ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم اڈیالہ میں ہی موجود ہیں اور انہیں مکمل سیکیورٹی، طبی نگرانی اور جیل قواعد کے مطابق سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی پانچ رکنی طبی ٹیم نے ان کا معائنہ کر کے ان کی حالت مستحکم قرار دی تھی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اس سے قبل میڈیا کو بتا چکے ہیں کہ عمران خان کو اسلام آباد جیل مکمل ہونے کے بعد وہاں منتقل کیا جائے گا، کیونکہ ان کی سزا اسلام آباد کی عدالت نے سنائی تھی۔ وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی نے بھی کہا تھا کہ حکومت ایک قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ تاہم حتمی فیصلے اور تاریخ کا اعلان ابھی باقی ہے، اور دونوں دعووں کے درمیان فرق برقرار ہے۔
اس سے قبل عمران خان اسپتال منتقلی پر پی ٹی آئی نے توہین عدالت میں جانے کا اعلان کیا تھا اور عمران خان کی بہنوں کے کیس میں ہائیکورٹ نے افسروں کو طلب کیا تھا۔
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ (یو اے نیوز کے ذریعے)، جیو نیوز سے اڈیالہ جیل ذرائع کے بیانات اور وزیر داخلہ محسن نقوی کے میڈیا بیانات۔