فضل الرحمان پر وزرا کا جوابی حملہ، پارلیمنٹ گرم

0

وفاقی وزرا خواجہ آصف اور محسن نقوی نے پارلیمنٹ میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر سخت جوابی حملہ کیا ہے، جس سے ایوانوں میں گرما گرمی پیدا ہو گئی۔ وزرا نے فضل الرحمان کی جانب سے قومی اسمبلی میں کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ان پر مذہب کو سیاسی اور مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا، جب کہ جے یو آئی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے فضل الرحمان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔تنازع کی شروعات کہاں سے ہوئی

تنازع کی شروعات کہاں سے ہوئی

تنازع اس وقت شروع ہوا جب مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت میں وزیراعظم اور وزیر دفاع پاکستان میں کیوں موجود رہے، جب کہ مکہ دفاعی معاہدے سے متعلق امور زیر بحث تھے۔ فضل الرحمان نے حکومت پر آئین کے غلط استعمال کا بھی الزام لگایا تھا۔

اگلے روز وفاقی وزرا نے دونوں ایوانوں میں اس تنقید کا جواب دیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں فضل الرحمان پر جوابی حملے کیے۔

خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں جواب

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں ہونے والی ملاقات کا مقصد علاقائی امن کو فروغ دینا تھا، نہ کہ کسی دفاعی معاہدے پر بات چیت کرنا۔ ان کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا دورہ حریف ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کی سفارتی کوششوں کا حصہ تھا، جس میں پاکستان کی خطے میں خیر سگالی کا کردار تھا۔

آصف نے کہا کہ تہران میں ان کی موجودگی ضروری نہیں تھی، کیونکہ وہاں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا۔ انہوں نے فضل الرحمان کے سیاسی ریکارڈ پر بھی سوال اٹھایا اور یاد دلایا کہ جے یو آئی سربراہ نے متعدد حکومتوں کے دور میں بااثر عہدے سنبھالے اور تقریباً ایک دہائی تک قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔

تقریر کے دوران جے یو آئی ارکان کی جانب سے بار بار مداخلت کی گئی اور ایوان میں کشیدگی بڑھ گئی۔ آصف نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر فضل الرحمان کے موقف پر بھی تنقید کی۔

محسن نقوی کا سینیٹ میں سخت ردعمل

سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی میں ریاست سے متعلق ریمارکس کے بعد ان کے لیے ان کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ نقوی کے مطابق، فضل الرحمان نے کہا تھا کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں، جس پر انہوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

نقوی نے کہا کہ جے یو آئی نے ایک حد پار کر لی ہے اور اسے مناسب جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے فضل الرحمان پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی موقف اس بنیاد پر اختیار کرتے ہیں کہ ان کی جماعت حکومت میں حصہ دار ہے یا نہیں۔ نقوی نے یہ بھی کہا کہ ان کا حالیہ تہران کا دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر جاری بحران سے متعلق تھا۔

جے یو آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے وزیر کے الفاظ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایوان کو ذاتی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس پر نقوی نے جواب دیا کہ ذاتی ایجنڈا گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اپنایا گیا تھا۔ پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے مداخلت کی اور قابل اعتراض الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا۔

حنیف عباسی کی تنقید اور جے یو آئی کا دفاع

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رکن حنیف عباسی نے بھی فضل الرحمان اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پر تنقید کی اور ان پر دہشت گردی کے ملزمان کی حمایت کا الزام لگایا۔ جے یو آئی نے ان تنقیدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوج پر انحصار کر رہی ہے اور تنقید کا مقصد سرکاری پالیسیاں ہیں، نہ کہ ریاستی ادارے۔

فضل الرحمان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنقید حکومتی پالیسیوں پر تھی اور انہوں نے پارلیمنٹ سے ملک کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر ان کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

پی ٹی آئی اور ٹی ٹی اے پی کی فضل کی حمایت

اس گرما گرمی کے بعد پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نے اسلام آباد میں فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور ان کی تقریر کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ وفد میں پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق اسپیکر اسد قیصر اور ٹی ٹی اے پی کے ترجمان حسین احمد یوسف زئی شامل تھے۔

وفد نے حکومتی وزرا کی تنقید کو جے یو آئی سربراہ کی کردار کشی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ یہ پیش رفت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر جاری لفظی جنگ کا نیا باب ہے۔

مزید پڑھیں: نقوی کا دعویٰ: جے یو آئی نے کے پی میں گورنر راج مانگا تھا (https://niazitvnews.com/?p=2856) اور پی ٹی آئی کے پی مذاکراتی کمیٹی، گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ (https://niazitvnews.com/?p=2848)۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، بزنس ریکارڈر — 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *