فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر طنز: کوئی شرم ہوتی ہے

0

لیڈ

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں دفاعی معاہدہ بن رہا ہے اور وزیر دفاع ایوان میں بیٹھے ہیں، اور پھر خواجہ آصف کا اپنا مشہور جملہ ان پر دہرا دیا: “کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔” خواجہ آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا اور یہ اجلاس ان کی وزارت کے دائرہ کار میں نہیں آتا تھا۔

قومی اسمبلی میں کیا ہوا؟

فضل الرحمان نے بدھ کو قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کا ذکر کیا، جس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی۔ فضل الرحمان نے کہا: “ایران میں دفاعی معاہدہ بن رہا ہے، وہاں اجلاس ہو رہا ہے اور وزیر دفاع یہاں بیٹھے ہیں۔” ان کے اس جملے پر ایوان میں قہقہے لگے اور ارکان نے میزیں بجائیں۔

فضل الرحمان نے محسن نقوی کی تہران میں موجودگی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وزیر داخلہ کی وہاں ضرورت بھی تھی؟ اس کے بعد انہوں نے خواجہ آصف کا وہ جملہ دہرایا جو وزیر دفاع ماضی میں پی ٹی آئی ارکان کے خلاف استعمال کر چکے ہیں۔ جے یو آئی کی جانب سے اس تقریر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جو تیزی سے وائرل ہو گئی۔

خواجہ آصف کا جواب

جمعرات کو قومی اسمبلی میں جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں نہ کوئی دفاعی معاہدہ بن رہا تھا اور نہ ہی وہاں پاکستان کے دفاع سے متعلق کوئی بات ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران “امن کے پیغامبر” کے طور پر گئے تھے اور ان کا کردار گزشتہ برس بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کے بعد خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وہ خود پاکستان کے دونوں حالیہ دفاعی معاہدوں — مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر مفاہمتی یادداشت — میں شریک رہے ہیں، لیکن تہران کا اجلاس وزارت دفاع کے مینڈیٹ میں نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔

خواجہ آصف نے فضل الرحمان پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی سربراہ نے مذہب اور سیاست کو “آمدنی کا ذریعہ” بنا لیا ہے اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر دس برس میں کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا۔ جے یو آئی ارکان نے اس دوران بار بار مداخلت کی۔

پس منظر: تہران اجلاس اور مکہ معاہدہ

تہران اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک میں ہوا تھا، جس پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت ایک رکن پر حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی، سعودی عرب پر حوثی حملوں اور امریکا ایران مذاکرات کے تناظر میں یہ اجلاس خطے میں امن کی کوششوں کا حصہ بتایا گیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی مسلم ممالک کے درمیان قریبی تعاون پر زور دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خواجہ آصف کا انکشاف — سرکاری افسران کی “بیوروکریٹک ایکسوڈس” (https://niazitvnews.com/?p=1213) اور فضل الرحمان کا الزام — خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی صوبے کی معدنیات پر قبضے کے لیے ہے (https://niazitvnews.com/?p=1134)۔

ذرائع: ڈان، ٹائمز آف انڈیا اور وائون کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *