قلعہ سیف اللہ آپریشن: دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والے کمانڈر کی شناخت عادل شاہ عرف درویش کے طور پر ہوئی ہے، جس کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے بتایا جاتا ہے۔ یہ آپریشن اسی روز ہوا جس روز ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی ایک بڑا آپریشن کیا گیا تھا، جس میں 6 دہشت گرد ہلاک اور 2 جوان شہید ہوئے تھے، جس کی تفصیل یہاں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=1961
ہلاک کمانڈر کون تھا؟
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق عادل شاہ دسمبر 2020 سے اس گروہ سے وابستہ تھا اور 2024 سے اس کے مالی امور سنبھال رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بلوچستان کے علاقوں ژوب، شیرانی اور شابان میں غیر ملکی دہشت گردوں کے لیے مستقل رہائشوں کا انتظام بھی کرتا تھا۔ اس پر 2022 سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور تاوان کے لیے اغوا کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ تمام تفصیلات سیکیورٹی ذرائع کے دعوے کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
دو آپریشن، ایک دن
ایکسپریس ٹریبیون کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اس دن دو الگ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے: ایک ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے زرکانی میں اور دوسرا قلعہ سیف اللہ میں۔ دونوں آپریشنز میں مجموعی طور پر 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ڈی آئی خان آپریشن میں آئی ایس پی آر کے مطابق 6 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے اور نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد نے جام شہادت نوش کیا تھا۔
علاقے میں کلیئرنس جاری
آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس (سینی ٹائزیشن) آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی باقی دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ عزم استحکام کے وژن کے تحت غیر ملکی سرپرستی والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ اس سے قبل سیکیورٹی خدشات پر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے کوئٹہ اور پشاور میں قیادت پر حملوں کے خدشے کا انتباہ بھی سامنے آ چکا ہے، جس کی خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=1311
پس منظر
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں حالیہ ہفتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اس حکمت عملی کا مرکزی حصہ ہیں۔ قلعہ سیف اللہ کا آپریشن اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں تاکہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔
ذرائع: ڈان (26 اکتوبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون (26 اکتوبر 2026)، ریڈیو پاکستان (سیکیورٹی ذرائع)۔