لکی مروت: خودکش بمبار سمیت 2 دہشت گرد ہلاک

0

لکی مروت میں پولیس نے بدھ کے روز گنڈی چوک کے علاقے میں کارروائی کے دوران 2 مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، جبکہ تیسرا مشتبہ شخص زخمی حالت میں فرار ہو گیا جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس کے مطابق بروقت کارروائی سے ایک بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا۔

گنڈی چوک میں کیسے ہوا مقابلہ

پولیس ترجمان کے مطابق سرائے نورنگ تحصیل کے علاقے گنڈی چوک میں شیشے والی مشکوک گاڑی کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس نے گاڑی روکنے کی کوشش کی تو اس میں سوار افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں 2 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں سے ایک کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ وہ خودکش بمبار تھا۔ تیسرا مشتبہ شخص زخمی ہوا لیکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد کا تعلق کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج سے بتایا گیا ہے۔ تاہم ہلاک افراد کی حتمی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام نے ابھی ان کے نام جاری نہیں کیے۔

گاڑی سے کیا برآمد ہوا

پولیس کے مطابق ہلاک افراد کی گاڑی سے اسلحہ، گولہ بارود، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا جھنڈا، خواتین کے برقعے اور دیگر مشکوک اشیا برآمد ہوئیں۔ بعض رپورٹس میں بارودی سرنگوں اور مواصلاتی آلات کی برآمدگی کا بھی ذکر ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان اشیا سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملزمان کسی بڑی کارروائی کی تیاری میں تھے، تاہم ان کے ممکنہ اہداف کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

واقعے کے بعد پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پولیس نے فرار ہونے والے زخمی مشتبہ شخص کی گرفتاری کے لیے ناکہ بندی بھی کی ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا کی تعریف

خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا اور اہلکاروں کی جان خطرے میں ڈال کر عوام کے تحفظ کے لیے ان کی تعریف کی۔ آئی جی نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا ہے۔

لکی مروت اور خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ حالیہ ہفتوں میں جاری رہا ہے۔ اس سے قبل محمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملہ ہوا تھا، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3449

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی صورتحال اور حکومت کے موقف سے متعلق یہ رپورٹ بھی ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=3541

تحقیقات جاری

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ہلاک افراد کے سہولت کاروں اور نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا رہا ہے۔ تاحال کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی فرار مشتبہ شخص کی گرفتاری کی اطلاع ملی ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مشکوک افراد یا گاڑیوں کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے کو دیں۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز، اے پی پی/اردو پوائنٹ، خیبر نیوز (4 نومبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *