محمند میں پولیو ٹیم پر حملہ، 2 پولیس اہلکار شہید

0

خیبر پختونخوا کے ضلع محمند میں منگل 3 نومبر کو پولیو مہم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کی ڈیوٹی پر جانے کے لیے روانہ تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

حملہ کہاں اور کیسے ہوا

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ محمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے ڈاگ تمنزئی میں ہاشم کور پولیس چیک پوسٹ کے قریب پیش آیا۔ اہلکار گاؤں کی جانب جا رہے تھے جہاں انہوں نے پولیو ٹیموں کی حفاظت کرنی تھی۔ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ ڈان کی خبر کے مطابق ہیڈکوارٹرز ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس لیاقت علی نے واقعے کی تفصیل کی تصدیق کی ہے۔

شہید ہونے والے اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور خان اور کانسٹیبل عربی خان کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ زخمی اہلکار سپاہی صابر خان ہے جسے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق ضلعی پولیس افسر رضا محمد خان نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی زخمی ہوا، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اعلیٰ حکام کی مذمت

صدر آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی شدید مذمت کی ہے اور شہید اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیو مہم کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر حملہ ناقابل برداشت ہے، اور شہید اہلکار صحت مند مستقبل کے لیے کام کر رہے تھے۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں پولیو کے خلاف خصوصی مہم جاری ہے۔ ٹریبیون کے مطابق یہ مہم 2 نومبر کو ملک کے 97 منتخب اضلاع میں شروع ہوئی تھی اور 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کا مقصد لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ اس سے ایک روز قبل ٹانک میں پولیو ٹیم کے 4 ارکان کو اغوا کر لیا گیا تھا، جس کی تفصیل ہماری اس خبر میں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=3360

پولیو ٹیموں پر حملوں کا پس منظر

پاکستان میں پولیو ٹیموں اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کوئی نئی بات نہیں۔ عسکریت پسند گروپ پولیو مہم کے خلاف غلط پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے فیلڈ میں کام کرنے والے کارکنان کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اس کے باوجود ملک بھر میں پولیو مہم جاری ہے اور ہزاروں پولیس اہلکار ٹیموں کی حفاظت پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ کراچی میں پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے 8 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے جانے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3281

پولیس کے مطابق محمند میں حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے اور علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ مہم کامیابی سے مکمل ہو سکے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پولیو کا خاتمہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہر بچے تک ویکسین پہنچے، اور اس کے لیے فیلڈ ورکرز کی حفاظت ناگزیر ہے۔

ماخذ: ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *