موبائل ٹیکس اب قسطوں میں — ایف بی آر نے ڈی آئی آر بی ایس طریقہ کار جاری کر دیا
بیرون ملک سے موبائل فون لانے والوں کے لیے بڑی سہولت — فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمدی موبائل فون ڈیوائسز پر سیلز ٹیکس ماہانہ قسطوں میں ادا کرنے کا طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اب رجسٹریشن کے وقت پورا ٹیکس ایک ساتھ دینے کی بجائے قسطوں میں ادائیگی ممکن ہوگی۔
نیا حکم نامہ: کسٹمز جنرل آرڈر نمبر 6
ایف بی آر نے کسٹمز جنرل آرڈر (سی جی او) نمبر 6 آف 2026 جاری کیا ہے، جس سے سی جی او نمبر 1 آف 2019 میں ترمیم کی گئی ہے۔ اس نئے طریقہ کار کے تحت درآمدی موبائل فون ڈیوائسز پر سیلز ٹیکس کی قسطوں میں ادائیگی ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے ذریعے کی جائے گی۔
کون فائدہ اٹھا سکتا ہے؟
ڈی آئی آر بی ایس پر درخواست دیتے وقت افراد قسطوں کی ادائیگی کا آپشن چن سکیں گے۔ اس سہولت کے حقدار ہوں گے: بیرون ملک سے آنے والے مسافر، مقامی درخواست گزار، اور ڈاک یا کورئیر کے ذریعے موبائل فون درآمد کرنے والے افراد — یعنی موجودہ حکم نامے کے پیراگراف اے، بی اور سی میں شامل تمام افراد۔
قسطوں کی حساب کتاب کیسے ہوگی؟
سیلز ٹیکس برابر ماہانہ قسطوں میں ادا ہوگا۔ قسطوں کی تعداد اس مالی سال کے باقی مہینوں کے برابر ہوگی جس میں فون درآمد کیا گیا، بشمول وہ مہینہ جس میں درخواست جمع کرائی گئی۔ مثال کے طور پر اگر درخواست اکتوبر میں دی جائے تو باقی مالی سال کی ماہانہ قسطیں بنیں گی۔ تاہم اگر موبائل فون جون میں درآمد کیا جائے تو پورا سیلز ٹیکس اسی ماہ کے اختتام سے پہلے ادا کرنا ہوگا۔
ادائیگی کا طریقہ
پہلی قسط ڈی آئی آر بی ایس پر درخواست جمع کراتے وقت بننے والی پیمنٹ سلپ آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) کے ذریعے ادا ہوگی۔ اگلی قسطیں ہر آنے والے مہینے کی اسی تاریخ کو بننے والی الگ پی ایس آئی ڈیز کے ذریعے ادا ہوں گی — اگر اس تاریخ میں وہ دن موجود نہ ہو تو مہینے کے آخری دن پی ایس آئی ڈی بنے گی۔ آخری قسط 30 جون (مالی سال کا اختتام) سے پہلے ادا کرنا لازم ہے۔ افراد چاہیں تو کسی بھی وقت باقی تمام قسطیں پیشگی بھی ادا کر سکتے ہیں۔
ڈیفالٹ کی صورت میں سزا
ایف بی آر نے خبردار کیا ہے کہ قسط کی ادائیگی میں ناکامی پر درخواست گزار کو ڈیفالٹر قرار دیا جائے گا۔ ڈیفالٹ کی صورت میں موبائل ڈیوائس غیر رجسٹرڈ تصور ہوگی اور ڈی آئی آر بی ایس کے ذریعے بلاک کر دی جائے گی، جبکہ باقی تمام سیلز ٹیکس فوری طور پر واجب الادا ہو جائے گا — اور قسطوں کی مزید سہولت ختم ہو جائے گی۔
پس منظر
یہ سہولت فنانس ایکٹ 2026 کے تحت سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے نویں شیڈول میں کی گئی ترمیم کا حصہ ہے، جس کے بعد ایف بی آر نے سیلز ٹیکس سرکلر نمبر 1 آف 2026 کے ذریعے وضاحت بھی جاری کی تھی۔ یاد رہے کہ درآمدی اسمارٹ فونز پر ٹیکس کا بوجھ صارفین کے لیے بڑا مسئلہ رہا ہے — اس سے پہلے بھی فون کے اجراء سے متعلق خبریں توجہ حاصل کرتی رہی ہیں، جیسے اوپو فائنڈ X10 پرو میکس اور آئی فون ڈیو کی فروخت کی کوریج۔
ذرائع: بزنس ریکارڈر، پی کے ریونیو، پرو پاکستانی