ٹیکسلا: مبینہ پولیس تشدد سے موت، احتجاج ختم
ٹیکسلا میں ہفتے 31 اکتوبر کو ایک نوجوان اکمل خان کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ اور مقامی افراد نے میوزیم روڈ پر لاش رکھ کر احتجاج کیا اور ٹیکسلا ہری پور روڈ گھنٹوں بند رکھی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں نے گاڑی کی پارکنگ پر ہونے والے جھگڑے کے بعد اکمل خان پر مبینہ تشدد کیا، جس سے ان کی موت ہوئی۔ راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف غیر جانبدار تحقیقات کے بعد کارروائی ہوگی۔ یہ واقعہ یکم نومبر 2026 کو ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹوں میں سامنے آیا۔
جھگڑا کیسے شروع ہوا، اہل خانہ کا الزام کیا ہے
رپورٹوں کے مطابق اکمل خان خانپور سے ٹیکسلا جا رہے تھے جب ٹیکسلا کے ایک چیک پوسٹ پر گاڑی کی پارکنگ پر پولیس اہلکاروں سے ان کی تکرار ہوئی۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ تکرار مبینہ جسمانی تشدد میں بدل گئی اور اکمل خان کو ان کے بچوں کے سامنے مارا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اہل خانہ نے الزام لگایا ہے کہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی قیادت میں پولیس اہلکاروں نے اکمل خان پر تشدد کیا، جب کہ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ میں گنگو پولیس چیک پوسٹ کا ذکر ہے اور ڈان میں خانپور روڈ پر جنڈیال چیک پوسٹ کا نام آیا ہے۔ اس فرق کے باعث چیک پوسٹ کا درست نام ابھی تحقیقات سے ہی واضح ہو سکے گا۔ موت کی اصل وجہ کے بارے میں رپورٹوں میں بھی فرق ہے۔ مقامی افراد کے حوالے سے بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اکمل خان کو مبینہ تشدد کے بعد دل کا دورہ پڑا، جب کہ اہل خانہ کا الزام سیدھا تشدد پر ہے۔ پولیس کا موقف یہ ہے کہ اکمل خان کی حالت بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس لیے اس خبر میں موت کی وجہ کو حتمی طور پر بیان نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے اہل خانہ کے الزام اور پولیس کے موقف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اور حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات سے طے ہوگی۔
میوزیم روڈ پر احتجاج اور مذاکرات
اکمل خان کی موت کے بعد اہل خانہ لاش کو میوزیم روڈ پر تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال کے سامنے لے آئے اور سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو بھی کچھ دیر کے لیے اپنے پاس رکھا، جنہیں بعد میں مذاکرات کے بعد چھوڑ دیا گیا اور طبی امداد کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ احتجاج کے باعث ٹیکسلا ہری پور روڈ گھنٹوں بند رہی اور ٹیکسلا ہٹر روڈ، ریلوے روڈ اور فیصل شہید روڈ پر بھی ٹریفک جام ہوا۔ اطلاع ملنے پر ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب اور ایس پی پوٹھوہار ڈویژن چوہدری اسرار علی بھاری نفری، ایلیٹ فورس اور خواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ موقع پر پہنچے۔ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد احتجاج پرامن طور پر ختم ہو گیا اور زیر حراست پولیس اہلکار کو چھوڑ دیا گیا۔ اکمل خان کی لاش تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
پولیس اور حکومت کا ردعمل
راولپنڈی پولیس کے میڈیا ونگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹیکسلا میں ایک شہری کی موت کے بعد قانونی کارروائی جاری ہے اور غیر جانبدار تحقیقات کے بعد ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی اکمل خان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی پولیس اہلکار کا ملوث ہونا ثابت ہوا تو بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مظاہرین کا مطالبہ یہی تھا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں اور مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ یہ واقعہ پنجاب میں پولیس کے رویے اور شہریوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے، اور اب سب کی نظریں تحقیقات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ہیں کہ اصل حقائق کیا سامنے آتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیالکوٹ بھگدڑ: 6 ملزمان گرفتار، مقدمہ کی نئی تفصیلات https://niazitvnews.com/?p=3090 اور سیالکوٹ بھگدڑ: مسٹر پٹلو سمیت 9 نامزد، مقدمہ درج https://niazitvnews.com/?p=3054
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، 24 نیوز اور اے پی پی، یکم نومبر 2026۔