پاکستان تاجکستان تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف

0

پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ 43 ملین ڈالر سے بڑھا کر اگلے تین سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے، اور تاجکستان کے سفیر نے پاکستانی کاروباری طبقے سے براہ راست روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔ یہ بات تاجک سفیر شریف زادہ یوسف طویر نے 3 نومبر 2026 کو ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) میں خطاب کے دوران کہی۔

سفیر نے کیا کہا

سفیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو متنوع بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کاروبار سے کاروبار کے تعاون کو وسعت دینے کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔ ان کے مطابق دونوں حکومتیں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور دیرینہ تعلقات کو کاروبار کے لیے ٹھوس فوائد میں بدلنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں دوطرفہ تجارت کا حجم 43 ملین ڈالر رہا، جب کہ دونوں حکومتوں نے اسے تین سال میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف طے کیا ہے۔ یہ ہدف نیا نہیں ہے بلکہ جون 2026 میں دوشنبے میں ہونے والے مشترکہ کمیشن کے آٹھویں اجلاس میں بھی اسی تین سالہ روڈ میپ پر اتفاق ہوا تھا، تاہم سفیر کا پی ٹی ای اے میں خطاب اس ہدف کو کاروباری سطح پر آگے بڑھانے کی تازہ کوشش ہے۔

تجارت بڑھانے کے راستے

تاجک سفیر کے مطابق براہ راست روابط کلیدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز، برآمد کنندگان اور خریداروں کے درمیان براہ راست رابطے نئی منڈیوں کی تلاش میں مدد دیں گے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے یہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے اور وسطی ایشیا کی منڈیاں اس کے لیے نسبتاً نئی ہیں۔

جون کے مشترکہ کمیشن اجلاس میں تجارت کے علاوہ زراعت، توانائی، سیاحت، رابطوں، تعلیم اور صحت میں تعاون پر بھی بات ہوئی تھی۔ اسی اجلاس میں کاسا 1000 بجلی منصوبے کے باقی کام کی بروقت تکمیل پر بھی زور دیا گیا تھا، جو وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک بجلی کی ترسیل کا ایک اہم علاقائی منصوبہ ہے۔ دونوں فریقوں نے تجارتی وفود، کاروبار سے کاروبار ملاقاتوں اور آن لائن کاروباری روابط کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا تھا۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

2025 میں 43 ملین ڈالر کی تجارت کے اعداد کے ساتھ ساتھ جنوری سے مارچ 2026 میں تجارت کا حجم 8.9 ملین ڈالر رہا تھا، جیسا کہ جون میں ٹرینڈ نیوز ایجنسی نے تاجک وزارت توانائی و آبی وسائل کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو 200 ملین ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لیے تجارت میں تقریباً پانچ گنا اضافہ درکار ہوگا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ہدف پرجوش ہے اور اس کے لیے صرف بیانات نہیں بلکہ ٹھوس تجارتی سودے درکار ہوں گے۔

پاکستان کے لیے وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کی اہمیت صرف تجارت تک محدود نہیں۔ یہ خطہ پاکستان کو چین، افغانستان اور وسطی ایشیا کو جوڑنے والے تجارتی راستوں میں ایک اہم مقام دیتا ہے، اور تاجکستان کے ساتھ بہتر تعلقات اس علاقائی رابطے کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ پی ٹی ای اے کے پلیٹ فارم سے ہونے والی بات چیت عملی سودوں میں بدلتی ہے یا نہیں۔ تجارتی وفود کے تبادلے، ٹیکسٹائل اور دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبے، اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر مذاکرات کی پیش رفت اس ہدف کی سمت کا تعین کرے گی۔ اگر اگلے چند مہینوں میں برآمدات کے نئے آرڈرز سامنے آتے ہیں تو 200 ملین ڈالر کا ہدف زیادہ حقیقی لگے گا، ورنہ یہ ایک اور پرجوش اعلان ہی رہ جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے ایس سی او بینک کنسورشیم کی صدارت سنبھال لی (https://niazitvnews.com/?p=3412) اور بھارت تجارت معطلی سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر نقصان (https://niazitvnews.com/?p=3331)۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹ، ٹرینڈ نیوز ایجنسی کی جون 2026 کی رپورٹ اور عرب نیوز کی جون 2026 کی کوریج۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *