پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت معطل کر دی — گبد ریمدان اور تفتان گزرگاہیں بند، ایل پی جی کی قلت اور مہنگائی کا خدشہ

0
سرحدی گزرگاہ پر رکے ہوئے مال بردار ٹرکوں اور بند بیرئیر کی علامتی تصویر (کوئی اصل شخص نہیں)

پاکستان نے ایران کے ساتھ تجارت ہفتے کے روز فوری طور پر معطل کر دی ہے۔ گوادر/کوئٹہ سے ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت نے ایک یادداشت جاری کرتے ہوئے 3 اکتوبر کے اپنے پچھلے حکم نامے کو فوری اثر سے واپس لے لیا، جس کے نتیجے میں گبد ریمدان اور تفتان کی سرکاری سرحدی گزرگاہوں سے تجارت رک گئی۔ حکم نامے میں بندش کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

سینکڑوں گاڑیاں سرحد پر پھنس گئیں

رپورٹ کے مطابق ایل پی جی، چاول، تازہ پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ سے لدی سینکڑوں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں جانب پھنس گئی ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اپنے اراکین اور ایران سے تجارت کرنے والے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ مزید احکامات تک نئے درآمدی و برآمدی آرڈر نہ لگائیں۔ ذرائع کے مطابق بندش کے بعد پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان ابتدائی رابطہ ہو چکا ہے۔

ایل پی جی کی قلت کا خدشہ

گبد ریمدان گزرگاہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کا ایک اہم راستہ بن چکی تھی — رپورٹ کے مطابق یہاں سے روزانہ 4,000 ٹن سے زائد ایل پی جی درآمد ہو رہی تھی۔ تجارتی اور توانائی کے شعبے کے ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بندش سے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں ایل پی جی کی قلت بڑھ سکتی ہے اور کھلی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تفتان کا راستہ پہلے ہی بلوچستان میں بدامنی کے باعث متاثر تھا۔ مقامی تاجروں اور چیمبر کا کہنا ہے کہ اس خلل سے قومی خزانے کو بھاری نقصان، ہزاروں افراد کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے اور توانائی کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

ایران کا ردعمل اور سیکیورٹی وجوہات

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتے کے روز کہا کہ “تکنیکی مسائل اور احتیاطی تدابیر” کی وجہ سے ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی آمدورفت اور تبادلے عارضی طور پر معطل کیے گئے ہیں۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے متعلقہ حکام قریبی رابطے میں ہیں اور مسئلہ جلد از جلد حل کر کے گزرگاہوں کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا شاہد رند نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاک ایران سرحد کی عارضی بندش کا مقصد سیکیورٹی خدشات دور کرنا، اسمگلنگ روکنا اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے عوام سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل بھی کی۔

(ماخذ: ڈان، ٹریبیون انڈیا/اے این آئی)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *