پاکستان نے بھارتی طیاروں پر فضائی پابندی 24 نومبر تک بڑھا دی — بندش کا 17 واں مہینہ، NOTAM جاری
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش کو 24 نومبر 2026 تک بڑھا دیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے اس سلسلے میں ایک تازہ نوٹس ٹو ائرمین (NOTAM A0590) جاری کیا ہے، جو 17 اکتوبر کو شام 7:45 بجے سے نافذ ہوا۔ یوں بھارتی ایئرلائنز پر پابندی کا 17 واں مہینہ شروع ہو چکا ہے، اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ بندش جلد ختم ہونے والی ہے۔
نوٹس میں کیا ہے
نئے نوٹس کے مطابق بھارت میں رجسٹرڈ طیارے اور بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کی ملکیت، زیرِ انتظام یا لیز پر لیے گئے طیارے پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کر سکیں گے۔ پابندی فوجی طیاروں پر بھی لاگو ہے، اور کراچی اور لاہور — دونوں فلائٹ انفارمیشن ریجنز کو محیط ہے، یعنی عملاً پورا پاکستانی فضائی علاقہ۔
اتھارٹی نے فیصلے کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی کیا، اور واضح کیا کہ نیا نوٹس پرانے NOTAM کی جگہ لے رہا ہے، جس کی میعاد 24 اکتوبر کو ختم ہو رہی تھی۔
پابندی کہاں سے شروع ہوئی
پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پہلی بار 23 اپریل 2025 کو بند کی تھی۔ اس کے ایک ہفتے بعد بھارت نے بھی جواباً پاکستانی ایئرلائنز اور طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود پر پابندی لگا دی۔ تب سے دونوں ملک بار بار پابندی کی توسیع کر رہے ہیں۔
توسیع در توسیع کے نتیجے میں بھارتی ایئرلائنز کو مغربی سمت — مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور شمالی امریکہ — کے طویل راستوں پر سفر جاری رکھنا پڑ رہا ہے، جس سے ان کے پرواز کے وقت اور ایندھن کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت متبادل راستوں پر غور کر رہا ہے، جن میں چین کے صوبے سنکیانگ کے راستے حوطان فضائی کوریڈور کا آپشن بھی شامل ہے۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آپریشنل ضرورت ہے — ایئرلائنز کو اسے اپنی فلائٹ پلاننگ میں شامل رکھنا ہوگا، اور 24 نومبر کی تاریخ بندش کے خاتمے کی ضمانت نہیں دیتی۔
Sources: IANS reporting (18 October 2026), visaverge (21 October 2026), lapaasvoice (21 October 2026).