پاکستان کا ٹیک جنات کے اثر پر عالمی انتباہ

0

پاکستان نے اقوام متحدہ میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے آن لائن گفتگو پر بڑھتے ہوئے اثر کے خلاف خبردار کیا ہے اور اسلاموفوبیا، ڈس انفارمیشن اور سنسرشپ کے خلاف مضبوط بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستانی سفارتکار امانت علی نے پیر 2 نومبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چوتھی کمیٹی میں معلومات سے متعلق بحث کے دوران یہ موقف پیش کیا۔

پاکستان نے کیا کہا؟

پاکستان کے اقوام متحدہ مشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امانت علی نے کہا کہ کثیر القومی ٹیکنالوجی کارپوریشنز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے، اور ان کے غیر شفاف الگورتھم اور مواد سے متعلق پالیسیاں عوامی گفتگو کو تیزی سے تشکیل دے رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غلط معلومات، جھوٹی خبریں اور نفرت انگیز تقاریر معاشروں کو تقسیم کرنے، رائے عامہ کو متاثر کرنے اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، خاص طور پر تنازعات اور غیر ملکی قبضے والے علاقوں میں۔

اسلاموفوبیا اور نفرت انگیز تقاریر

پاکستانی مندوب نے اسلاموفوبیا، نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت کے خلاف مضبوط کوششوں پر زور دیا اور کہا کہ نفرت انگیز تقاریر اور عدم برداشت تیزی سے پولرائزڈ معلوماتی ماحول میں بڑا خطرہ بن رہے ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ پلیٹ فارمز کی ذمہ دارانہ حکمرانی اور اقوام متحدہ کی مسلسل وکالت کے ذریعے تکثیریت کو فروغ دے۔ یہ موقف اس سے پہلے بھی پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں بار بار پیش کیا جا چکا ہے، جہاں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن 15 مارچ کو بھی پاکستان کی وکالت کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔

قابض طاقتوں کا ڈس انفارمیشن کا استعمال

امانت علی نے یہ بھی کہا کہ قابض طاقتیں معلومات میں ہیرا پھیری کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں تاکہ حقائق چھپائے جائیں، جبر کو جواز دیا جائے اور حق خود ارادیت کی جدوجہد کو بدنام کیا جائے۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش، پابندی والی میڈیا قوانین اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے اور استحکام کی جھوٹی تصویر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ حقائق کی جان بوجھ کر مسخ کرنا اب ایک منظم رجحان بن چکا ہے جو کثیر الجہتی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت: وعدہ اور خطرہ دونوں

پاکستانی بیان میں مصنوعی ذہانت اور جنریٹو ٹیکنالوجیز کے دوہرے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ایک طرف یہ ٹیکنالوجیز اگر اخلاقی رہنمائی کے ساتھ استعمال ہوں تو حکمرانی کو مضبوط کر سکتی ہیں، دوسری طرف ان سے غلط معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے شعبہ عالمی مواصلات (ڈی جی سی) کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معلوماتی نظام کو زیادہ روادار، منصفانہ اور جوابدہ بنانا ضروری ہے۔

ٹیکنالوجی کے اس بڑھتے اثر کا ایک پہلو پاکستان میں بھی نظر آتا ہے، جہاں چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات (https://niazitvnews.com/?p=1249) کا آغاز ہوا، جبکہ ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا معاملہ بھی عالمی سطح پر زیر بحث ہے، جیسا کہ جنوبی کوریا کے صدر کے ڈیٹا لیک (https://niazitvnews.com/?p=3439) کے واقعے سے ظاہر ہوا۔

پاکستان کا مطالبہ کیا ہے؟

پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ معلومات کی سالمیت کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون بڑھایا جائے، پلیٹ فارمز کی حکمرانی ذمہ دارانہ ہو، اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقوام متحدہ کی وکالت جاری رہے۔ پاکستان نے درست، جامع اور اخلاقی معلومات کو بھلائی کی قوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

ذرائع: عرب نیوز، دنیا نیوز، اقوام متحدہ مشن پاکستان کا بیان — 2 تا 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *