پاکستان کی زہریلی ہوا: عمر 3.9 سال کم، سالانہ 128,000 اموات
پاکستان کی زہریلی ہوا پاکستانیوں کی اوسط عمر تقریباً 3.9 سال کم کر رہی ہے اور ہر سال تقریباً 128,000 قبل از وقت اموات کا سبب بن رہی ہے۔ یہ انکشاف پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (PAQI) کی نئی قومی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس کی خبر دی ایکسپریس ٹریبیون نے 28 اکتوبر 2026 کو دی۔ رپورٹ کے مطابق آلودگی سے ہونے والا معاشی نقصان ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 6.5 فیصد بنتا ہے۔
رپورٹ میں کیا کہا گیا ہے؟
“انویلنگ پاکستانز ایئر پلیوشن: اے نیشنل لینڈ اسکیپ رپورٹ آن ہیلتھ رسکس، سورسز اینڈ سلوشنز” کے عنوان سے جاری اس مطالعے میں لاہور، کراچی، اسلام آباد۔راولپنڈی اور پشاور سمیت چار بڑے شہری خطوں میں ہوا کے معیار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں زمینی پیمائش، سیٹلائٹ مشاہدات اور ایندھن کے استعمال، گاڑیوں، صنعتوں اور مختلف شعبوں سے خارج ہونے والی آلودگی کے مقامی اعداد و شمار کو یکجا کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں باریک ذرات (PM2.5)، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور سلفر ڈائی آکسائیڈ جیسے آلودگی پھیلانے والے عناصر کا تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ آلودگی کے اصل ذرائع کی نشاندہی کی جا سکے۔
لاہور سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ کے مطابق لاہور سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے، جہاں سالانہ اوسط PM2.5 کی مقدار 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے، جو عالمی ادارہ صحت کی تجویز کردہ سالانہ حد 5 مائیکروگرام سے 22 گنا سے بھی زیادہ ہے۔ اتنی آلودہ ہوا میں مسلسل رہنے سے لاہور کے شہریوں کی عمر 7 سال تک کم ہو سکتی ہے۔ سردیوں میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، جب درجہ حرارت کے الٹاؤ کی وجہ سے آلودہ ہوا زمین کے قریب پھنس جاتی ہے اور پھیل نہیں پاتی۔
صحت اور معیشت پر بوجھ
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق آلودہ ہوا نہ صرف جانیں لے رہی ہے بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ آلودگی سے متعلق اخراجات جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے برابر بتائے گئے ہیں، جس میں علاج معالجے کے اخراجات، کام کے دنوں کا ضیاع اور پیداواری صلاحیت میں کمی شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک خاموش صحت کا بحران ہے جو ہر سال ہزاروں خاندانوں کو متاثر کر رہا ہے۔
کیا حل تجویز کیے گئے ہیں؟
رپورٹ میں آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ حل بھی تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صاف ایندھن کا استعمال، گاڑیوں کے اخراج پر کنٹرول، صنعتی آلودگی کی نگرانی اور شہری علاقوں میں سبز جگہوں کا اضافہ شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان اقدامات پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو آنے والے برسوں میں ہوا کے معیار میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سموگ کا سیزن جاری ہے اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد میں 28 اور 29 اکتوبر کو قومی کلین ایئر کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے، جس میں وفاقی اور صوبائی نمائندے صاف ہوا کی پالیسی پر غور کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:
- لاہور سموگ: دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 296: https://niazitvnews.com/?p=2401
- اسلام آباد: قومی کلین ایئر کانفرنس آج سے شروع: https://niazitvnews.com/?p=2282
ذرائع: دی ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔