پاک بھارت تجارت معطلی سے 40 ارب ڈالر نقصان کا دعویٰ
پاک انڈیا بزنس کونسل کے چیئرمین نور محمد قصوری نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کی معطلی کے بعد سے پاکستان کو اندازاً 40 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا ہے۔ ان کے مطابق تجارت 2019 میں پلوامہ حملے اور اس کے بعد کی کشیدگی کے بعد معطل ہوئی تھی، اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کی بحالی سے کاروبار اور سرمایہ کاری کو فائدہ ہوگا۔
نقصان کا حساب کس بنیاد پر
قصوری کے مطابق تجارت بند ہونے سے پاکستانی کاروبار مجبوراً ضروری خام مال اور دیگر اشیا دور دراز منڈیوں سے منگوانے لگے، جس سے نقل و حمل اور مال برداری کے اخراجات اور ترسیل کا وقت دونوں بڑھ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی دوا ساز صنعت اب بھی بھارت میں دستیاب خام مال پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے، اور بھارت سے درآمدات سے سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔
ٹیکسٹائل شعبے کے حوالے سے ان کا دعویٰ ہے کہ ملکی کپاس کی پیداوار میں کمی کے باعث کپاس برازیل، مصر، چین اور امریکہ سے منگوانی پڑی، جس پر اندازاً 5 ارب ڈالر اضافی خرچ آیا۔ اس کے علاوہ چینی، کھاد، سیمنٹ، پیٹرولیم مصنوعات، لوہا و اسٹیل، سبزیاں اور بھاری مشینری بھی دور کی منڈیوں سے درآمد کرنا پڑیں، حالانکہ بھارت میں ان اشیا کی بڑی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔
بحالی سے کیا فائدہ ہوگا
بزنس کونسل کے سربراہ کے مطابق تجارتی تعلقات کی بحالی سے نقل و حمل کے اخراجات کم ہوں گے اور بروقت فراہمی یقینی بنے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی آئل ریفائنریز جغرافیائی طور پر پاکستان کے قریب ہیں، اس لیے پیٹرولیم درآمدات سستی اور تیز تر ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح بھارتی زرعی اور صنعتی مصنوعات تک رسائی سے پاکستانی کاروبار اپنی پیداواری لاگت کم کر سکیں گے۔
قصوری نے یہ بھی کہا کہ تجارتی بحالی سے دونوں طرف کے کاروباروں کو فائدہ ہوگا اور سرمایہ کاری، سیاحت اور علاقائی تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ بیان ایک کاروباری تنظیم کے سربراہ کی رائے اور اندازے پر مبنی ہے، اسے کسی سرکاری اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
سیاق و سباق
پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت کئی برس سے معطل ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی تعلقات بھی کشیدہ رہے ہیں۔ پاکستان کی معیشت اس وقت مہنگائی، درآمدی اخراجات اور برآمدات بڑھانے کے چیلنجز سے گزر رہی ہے، اس لیے تجارتی راستوں کی لاگت کا سوال کاروباری حلقوں میں بار بار اٹھتا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی حالیہ دنوں میں زیر بحث آیا ہے، جبکہ پاکستان کی شنگھائی تعاون تنظیم بینک کنسورشیم کی صدارت علاقائی مالی تعاون کی ایک اور مثال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارت کی بحالی کا فیصلہ محض معاشی نہیں، سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے کاروباری تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود اس پر حتمی فیصلہ حکومتی سطح پر ہی ہوگا۔ تاہم کاروباری حلقے اس بحث کو زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ سستی اور قریبی منڈیوں تک رسائی سے صارفین اور صنعت دونوں کو ریلیف مل سکتا ہے۔
ذرائع: دی اسٹیٹس مین — 3 نومبر 2026۔ نوٹ: 40 ارب ڈالر کا اعداد پاک انڈیا بزنس کونسل کے چیئرمین کا دعویٰ/اندازہ ہے، سرکاری اعداد نہیں۔