پاک چین فرینڈشپ اسپتال کا افتتاح، مفت علاج کا اعلان

0

وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں پاک چین فرینڈشپ اسپتال کا افتتاح کر دیا ہے، جہاں ملک کے کسی بھی حصے سے آنے والے مریضوں کو مفت اور معیاری علاج فراہم کیا جائے گا۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مریضوں کے علاج کا سو فیصد خرچ حکومت برداشت کرے گی۔

برسوں بند رہنے والا اسپتال دوبارہ فعال

یہ اسپتال چین کی جانب سے کرونا وبا کے دوران پاکستان کو تحفے میں دیا گیا تھا۔ جولائی 2020 میں اس کا افتتاح آئسولیشن اسپتال اور متعدی امراض کے علاج کے مرکز کے طور پر ہوا تھا، لیکن وبا ختم ہونے کے بعد یہ سہولت غیر فعال ہو گئی اور برسوں بند پڑی رہی۔ اب اس کی تزئین و آرائش کے بعد اسے نئے نام پاک چین فرینڈشپ اسپتال کے ساتھ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اسے مارگلہ اسپتال کے نام سے جانا جاتا تھا۔

وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ وبا کے بعد اسپتال کا بند رہنا افسوسناک تھا اور انہوں نے اس طویل بندش پر چین سے معذرت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کو ضائع ہونے کے بجائے انسانیت کی خدمت میں استعمال ہونا چاہیے، اور یہ اسپتال اب اسی مقصد کے لیے کام کرے گا۔

182 بستروں کا اسپتال، 50 آئی سی یو بستر

بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے مطابق بحال شدہ اسپتال میں 182 بستر ہیں، جن میں 50 انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) کے بستر شامل ہیں۔ اسپتال میں پانچ بڑے شعبے قائم کیے گئے ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی صحت بھی شامل ہے، اور جدید آپریشن تھیٹرز بھی موجود ہیں۔ اسپتال قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے قریب تقریباً 40 کنال رقبے پر واقع ہے، جہاں مریضوں کے وارڈز، لیبارٹریز اور انتظامی دفاتر قائم ہیں۔

اسپتال اسلام آباد اور راولپنڈی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے آنے والے مریضوں کی خدمت کرے گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اسپتال کی کارکردگی کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کرایا جائے تاکہ علاج کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہ ہو۔

انڈس اسپتال چلائے گا، حکومت خرچ اٹھائے گی

اسپتال کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے حوالے کیا گیا ہے، جو اس کا انتظام اور طبی خدمات چلائے گا۔ یہ نیٹ ورک ملک بھر میں مفت صحت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ حکومت نے 31 جولائی کو اس نیٹ ورک کے ساتھ اسپتال اور اسلام آباد کے ریجنل بلڈ سینٹر کے انتظام کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

افتتاح کے موقع پر وزیراعظم نے اسپتال کا دورہ کیا، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے بریفنگ لی اور مریضوں سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ ورانہ طور پر چلنے والے اسپتالوں کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے۔

لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کی توسیع کی بھی منظوری

اسی روز وزیراعظم نے لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی توسیع کی بھی منظوری دی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دونوں ایئرپورٹس کے ماسٹر پلان کے تحت توسیعی کام مقررہ مدت میں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں، جبکہ مسافروں کے لیے خدمات بھی بہتر بنائی جائیں۔

اسپتال کی بحالی کو صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی تنظیموں نے یکم نومبر سے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس بارے میں مزید تفصیل ہماری اس خبر میں پڑھیں: ڈاکٹروں کی ہڑتال: یکم نومبر سے ملک گیر احتجاج (https://niazitvnews.com/?p=2719)۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے صحت پر اثرات سے متعلق لینسٹ کی رپورٹ یہاں ملاحظہ کریں: لینسٹ رپورٹ: پاکستان میں موسمیاتی صحت کا بحران (https://niazitvnews.com/?p=2730)۔

ماخذ: ڈان، بزنس ریکارڈر، پاکستان ٹوڈے، دنیا نیوز اور دی نیشن کی 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *