پشاور حادثے کے بعد بڑا ایکشن — خیبر میں 5 نجی اسکول سیل، سرکاری اسکولوں کی بھی فنی جانچ کا حکم

0
خیبر میں سیل کیے گئے خستہ حال اسکول کی عمارت کی تصویر

پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے المناک حادثے کے بعد خیبر پختونخوا کی ضلعی انتظامیہ حرکت میں آ گئی ہے۔ خیبر ضلع میں حکام نے جمعے کے روز 5 نجی اسکولوں کو سیل کر دیا کیونکہ ان کی عمارتیں انتہائی خستہ حال پائی گئیں — بعض اسکولوں کی چھتیں صرف بنس کی بنی ہوئی تھیں اور دیواریں گر رہی تھیں۔

پشاور کا المناک حادثہ

یہ کارروائی جمعرات 15 اکتوبر کو پشاور کی ڈیر کالونی میں الخیر ایجوکیشن سینٹر کی چھت گرنے کے بعد شروع ہوئی، جس میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے۔ ڈان کے مطابق 30 طلبہ اور ایک خاتون استانی جاں بحق ہوئے، جبکہ بعض غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں نے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ بتائی ہے۔ پولیس نے اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس حادثے کے بعد صوبے بھر میں اسکولوں کی عمارتوں کے تحفظ پر سوالات اٹھنے لگے۔

خیبر میں کارروائی کی تفصیل

خیبر کے ڈپٹی کمشنر شاہد علی نے پشاور حادثے کے بعد نجی اسکولوں کے دورے کی ہدایت کی تھی۔ اس مقصد کے لیے تین تحصیلوں — لنڈی کوتل، باڑہ اور جمرود — کے اسسٹنٹ کمشنرز اور محکمہ تعلیم، محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو)، ایریگیشن اور تحصیل میونسپل انتظامیہ کے افسران پر مشتمل کمیٹیاں بنائی گئیں۔
معائنے کے دوران لنڈی کوتل، باڑہ اور جمرود میں جن 5 اسکولوں کو سیل کیا گیا، وہ طلبہ اور اساتذہ کی جانوں کے لیے خطرہ قرار دیے گئے۔ حکام کے مطابق بعض سیل کیے گئے اسکولوں کی چھتیں محض بنس سے ڈھکی تھیں جبکہ دیواریں ڈھے رہی تھیں۔
دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق لنڈی کوتل کے گاؤں والی خیل میں ایک نجی اسکول کو خستہ حالی پر سیل کیا گیا، جبکہ گورنمنٹ ہائی اسکول لنڈی کوتل اور گورنمنٹ پرائمری اسکول پسید خیل کا ایک ایک کمرہ بھی خراب حالت کی وجہ سے سیل کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر کے مطابق معائنہ کی مہم آئندہ دنوں میں جاری رہے گی اور سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔

صوبے بھر میں فنی جانچ کا حکم

صوبائی محکمہ ایلیمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر ضلع میں تکنیکی ٹیمیں تشکیل دے کر اسکولوں کی عمارتوں کا ساختی معائنہ کرے۔ حکم کے مطابق چھتوں، سیلنگ، دیواروں، ستونوں، بیموں، بنیادوں اور سیڑھیوں سمیت پوری عمارت کی جانچ ہوگی اور اسکولوں کو محفوظ، مرمت کے متقاضی یا غیر محفوظ قرار دیا جائے گا۔ ضلعی رپورٹیں 26 اکتوبر کی دوپہر تک جمع کرانی ہیں۔ ہر اسکول کو بلڈنگ سیفٹی کلیئرنس سرٹیفکیٹ یا این او سی بھی جاری کیا جائے گا۔
ذرائع: ڈان، دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *