پوتن کی بڑی تجویز — یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ تین فریقی سربراہی اجلاس
وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تین فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز پیش کی ہے تاکہ یوکرین جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کیے جا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تجویز روس کے لیے سازگار معاہدے کے حصول کی کوشش ہے۔
تجویز کہاں پیش ہوئی؟
رپورٹ کے مطابق پوتن نے یہ تجویز 9 اکتوبر کو ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک گفتگو میں پیش کی۔ مجوزہ اجلاس اگلے ماہ چین کے شہر شینزین میں ایپیک سربراہی اجلاس (18 سے 19 نومبر) کے موقع پر ہو سکتا ہے۔
کریملن اور واشنگٹن کا ردعمل
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی “کوئی واضح مفاہمت” نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور ان کے ردعمل کا انتظار ہے۔
یوکرین کی غیر موجودگی — بڑا اعتراض
اس مجوزہ اجلاس میں یوکرین کو شامل نہیں کیا گیا، جو اس اقدام پر سب سے بڑا اعتراض ہے۔ یوکرینی قیادت کا دیرینہ موقف ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے ملک کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا، اور مغربی اتحادیوں کے لیے بھی یہ ایک حساس نکتہ ہے۔
جنگ کی موجودہ صورتحال
یوکرین جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور دونوں جانب بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ عالمی برادری مسلسل جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دے رہی ہے، لیکن اب تک کوئی جامع امن معاہدہ نہیں ہو سکا۔
ٹرمپ کا نیا موقف — روس پر پابندیاں فی الحال موخر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 18 اکتوبر کو کہا کہ وہ یوکرین امن مذاکرات میں “بہت اچھی پیش رفت” کا حوالہ دیتے ہوئے روس پر نئی پابندیوں کا دستخط “فی الحال” موخر کر رہے ہیں، کیونکہ ان کے بقول یہ قدم روس کو “احمقانہ طور پر مذاکرات کی میز سے دور” لے جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس ایران کی مدد کے لیے “بہت کم” کر رہا ہے اور زیلینسکی کی روسی ڈیزل ریفائنریوں پر حملوں کی تنقید کی جن سے عالمی ڈیزل مارکیٹ متاثر ہو رہی ہے۔ ذرائع: اناطولو، اے نیوز۔
ذرائع: وال اسٹریٹ جرنل (عرب نیوز، دی ہندو بزنس لائن/رائٹرز اور اناطولو کی کوریج کے حوالے سے)۔