پٹرول 15 روپے سستا رکھنے کے لیے ریفائنریز 15 ارب کا بوجھ اٹھائیں گی
حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ روک دیا ہے، اور یہ اضافی بوجھ اب ملک کی آئل ریفائنریز اٹھائیں گی جو ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کریں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر 2 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ دونوں وزراء نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام پر عالمی قیمتوں کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔
15 روپے کا اضافہ کیسے روکا گیا
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے درآمدی اخراجات، شپنگ، ٹرانسپورٹ اور انشورنس مہنگی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعے کو پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہونا تھا، لیکن وزیراعظم کی ہدایت پر یہ اضافہ صارفین تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔
حکومت نے مقامی ریفائنریز سے کہا ہے کہ وہ متوقع اضافہ خود برداشت کریں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق، ریفائنریز ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ اٹھائیں گی، جس سے پٹرول عالمی قیمت کے مقابلے میں 15 روپے فی لیٹر سستا فروخت ہو سکے گا۔ وزراء نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ایندھن کی کوئی قلت نہیں ہے، اور نومبر کے لیے ایندھن کی ضروریات مکمل طور پر پوری کر لی گئی ہیں، جبکہ دسمبر اور جنوری کی سپلائی کے فیصلے بعد میں کیے جائیں گے۔
فیول ریلیف اسکیم: 15 ملین افراد، 27 ارب روپے
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت اب تک 15 ملین سے زیادہ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں اور ان تک 27 ارب روپے کی ریلیف پہنچائی جا چکی ہے۔ یہ اسکیم ستمبر میں وزیراعظم نے اعلان کی تھی، جس کے تحت موٹر سائیکل، قینچی رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو سبسڈی والے نرخوں پر پٹرول ملتا ہے۔
تارڑ کے مطابق، اسکیم کے تحت رجسٹرڈ صارفین کو ڈیجیٹل ٹوکن جاری کیا جاتا ہے، اور پٹرول پمپس کو سبسڈی والے نرخوں پر فراہم کیے گئے ایندھن کی ادائیگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ اس اسکیم سے براہ راست فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد 13 ملین سے زیادہ ہے، جبکہ رجسٹریشن کا مجموعی اعداد 15 ملین سے تجاوز کر گیا ہے۔ اس اسکیم کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت پٹرولیم، اوگرا اور اسٹیٹ بینک کی مشترکہ کوششوں سے چلایا جا رہا ہے۔
ریفائنریز پر پہلے سے بوجھ
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریفائنریز پہلے ہی ایک اور حکومتی فیصلے کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ پٹرول پر ریفائنریز کے فی لیٹر 49 روپے کے بوجھ کی خبر کے مطابق، کابینہ نے 30 اکتوبر کی رات پٹرول کی قیمت کے طریقہ کار میں تبدیلی کی تھی، جس کے تحت ریفائنریز کو فی لیٹر 49 روپے سے زیادہ کا بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ نئے اعلان کے ساتھ ریفائنریز پر مجموعی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، تاہم حکومت کا موقف ہے کہ عوام کو ریلیف دینا اولین ترجیح ہے۔
وزراء نے یہ بھی کہا کہ عالمی صورتحال کے باوجود پاکستان کے معاشی اشاریے بڑی حد تک مستحکم رہے ہیں، اور حکومت اپنی استطاعت کے مطابق عوام کو ریلیف فراہم کر رہی ہے۔ وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم جاری رہے گی، اور ریفائنریز کے تعاون سے عوام کو سستا پٹرول فراہم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3273
ذرائع: ریڈیو پاکستان، اردو پوائنٹ (اے پی پی)، آج انگلش، ٹریبیون، بزنس ریکارڈر، عرب نیوز۔