پٹرول 4 ماہ میں 26 فیصد مہنگا، عام آدمی کی جیب خالی
پاکستان میں پٹرول کی قیمت مالی سال 2026-27 کے پہلے چار ماہ میں 26 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے، جس نے عام آدمی کے بجٹ پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق یکم جولائی کو پٹرول 299.50 روپے فی لیٹر تھا، جو 24 اکتوبر تک 377.71 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، یعنی 26.11 فیصد اضافہ۔ اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل 311.47 روپے سے بڑھ کر 393.66 روپے فی لیٹر ہو گیا، جو 26.39 فیصد کا اضافہ ہے۔
تازہ ترین نرخ کیا ہیں؟
پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی تازہ ترین نظرثانی کے تحت 24 سے 26 اکتوبر تک ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جبکہ پٹرول کی قیمت برقرار رکھی گئی۔ اس طرح ڈیزل 393.66 روپے اور پٹرول 377.71 روپے فی لیٹر پر فروخت ہو رہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل بھی ڈیزل میں 1.64 روپے کا اضافہ ہوا تھا، جبکہ پٹرول میں 1.60 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ اوگرا کے مطابق یہ تبدیلیاں عالمی مارکیٹ میں پلیٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات میں تبدیلی کی وجہ سے کی گئی ہیں، اور اس دوران برینٹ خام تیل کی قیمت 114.57 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔
ضروری اشیا بھی مہنگی
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہا۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے ہفتہ وار حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے مطابق 2 جولائی سے 22 اکتوبر کے درمیان 51 ضروری اشیا کی قیمتوں میں 5.81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرانسپورٹرز اور مال بردار آپریٹرز سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، کیونکہ کرایوں میں اضافہ براہ راست مسافروں اور سامان کی ترسیل کی لاگت پر پڑتا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے نے بھی گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے، اور روٹی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
کراچی میں احتجاج، حکومت پر دباؤ
رپورٹوں کے مطابق کراچی میں قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج بھی سامنے آ چکا ہے، اور شہباز شریف حکومت پر ریلیف اقدامات کا دباؤ بڑھ رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی نیا ریلیف پیکیج اعلان نہیں کیا گیا۔ کم اور درمیانی آمدنی والے گھرانے سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں، کیونکہ ایندھن کی قیمت ٹرانسپورٹ، خوراک اور گھریلو توانائی سمیت ہر شعبے میں منتقل ہوتی ہے۔ فیول کی قیمتوں کا یہ سلسلہ اس سے پہلے بھی خبروں میں رہا ہے، جیسا کہ ڈیزل 1.91 روپے مہنگا ہونے (https://niazitvnews.com/?p=1587) اور پٹرول کی قیمتوں میں تبدیلی (https://niazitvnews.com/?p=1287) کی خبروں میں دیکھا گیا تھا۔
آگے کیا متوقع ہے؟
ایندھن کی قیمتیں عالمی تیل مارکیٹ سے جڑی ہوئی ہیں، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ اگر عالمی قیمتیں بلند رہیں تو اگلی نظرثانی میں بھی اضافے کا امکان رہے گا، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ مالیاتی خسارے پر قابو رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف بھی دے سکے۔
ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، بزنس ریکارڈر، اوگرا، پاکستان بیورو آف شماریات۔