پیمرا کا ٹی وی چینلز کو نیا حکم نامہ — دھماکوں، فائرنگ اور دہشت گردانہ حملوں کی لائیو کوریج پر پابندی برقرار
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھماکوں، فائرنگ اور دہشت گردانہ حملوں جیسے ناخوشگوار واقعات کی براہ راست (لائیو) کوریج نہ کریں۔ 13 اکتوبر کو جاری نوٹیفکیشن میں خلاف ورزی کرنے والے چینلز کے خلاف قانونی کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کیا کہا گیا ہے؟
پیمرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سیٹلائٹ ٹی وی چینل لائسنس یافتگان کو ایک بار پھر ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے — جیسے دھماکہ، فائرنگ یا دہشت گردانہ حملہ — کی نشریات، دوبارہ نشریات اور لائیو کوریج سے گریز کریں۔ چینلز صرف وہی معلومات نشر کریں جو متعلقہ محکمے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تصدیق شدہ ہوں۔
2023 کے حکم نامے کا اعادہ
پیمرا نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی نئی پابندی نہیں بلکہ 20 فروری 2023 کو جاری کیے گئے حکم نامے کا اعادہ ہے۔ اس وقت بھی نیوز، کرنٹ افیئرز اور علاقائی زبانوں کے چینلز کو ایسے واقعات کی لائیو کوریج سے روکا گیا تھا۔ چینلز کو نشریات کے دوران ٹائم ڈیلے کا مؤثر استعمال اور آزاد ادارتی بورڈ قائم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے — سپریم کورٹ کے 2018 کے سوو موٹو کیس نمبر 28 اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے 5 ستمبر 2022 کے حکم کی روشنی میں۔
خلاف ورزی پر کیا سزا ہوگی؟
نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں پیمرا آرڈیننس 2002 کی دفعات 29-اے، 30 اور 33 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایمرجنسی کے پس منظر میں فیصلہ
یہ ہدایت نامہ خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے تین دن بعد آیا ہے۔ حکومت نے صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کو ایمرجنسی کی وجہ قرار دیا تھا، جبکہ میڈیا کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور عوام کو بروقت معلومات کی فراہمی کے درمیان توازن پر بحث جاری ہے۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، پرو پاکستانی